بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 1893 — حج کا احرام کھول کر فسخ حج کا بیان
کتب سنن دارمی حج اور عمرہ کے بیان میں حج کا احرام کھول کر فسخ حج کا بیان حدیث 1893
حدیث نمبر: 1893 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِيهِ
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ بِلَالِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: فَسْخُ الْحَجِّ لَنَا خَاصَّةً، أَمْ لِمَنْ بَعْدَنَا؟ قَالَ:"بَلْ لَنَا خَاصَّةً".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
بلال بن حارث نے اپنے والد سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا حج کا فسخ کرنا صرف ہمارے لئے ہے یا ہمارے بعد آنے والے اور لوگوں کے لئے بھی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ ہمارے لئے خاص ہے۔ [سنن دارمي/من كتاب المناسك/حدیث: 1893]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده قال الإمام أحمد: ((ليس إسناده بالمعروف)). وهو حديث منكر، [مكتبه الشامله نمبر: 1897] »
اس روایت کی سند میں کلام ہے۔ دیکھئے: [أحمد 469/3] ، [طبراني 1138] ، [الحاكم 517/3] ، [أبوداؤد 1808] ، [نسائي 3790] ، [ابن ماجه 2994]
وضاحت
(تشریح حدیث 1892)
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فسخِ حج کا حکم قیامت تک لئے ہے، مذکورہ بالا حدیث کو انہوں نے منکر کہا ہے اور یہ صحابیٔ جلیل سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مخالف ہے جس کو تقریباً 11 صحابۂ کرام نے روایت کیا ہے۔
بعض علماء نے کہا کہ یہ ہمارے لئے خاص ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حج فسخ کر کے پہلے عمرہ کرنا پھر حج کا احرام باندھنا یہ امر خاص مسلمانوں کے لئے ہے کیونکہ مشرکین اشہر الحج میں عمرہ کرنے کو برا جانتے تھے، ائمۂ ثلاثہ رحمہم اللہ کے نزدیک حج کا فسخ کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ خاص تھا، لہٰذا جو حاجی جس نیّت سے احرام باندھے اسے پورا کرے۔
لیکن امام احمد رحمہ اللہ کا قول راجح ہے۔
الحكم: إسناده قال الإمام أحمد: ((ليس إسناده بالمعروف)). وهو حديث منكر
← پچھلی حدیث (1892) باب پر واپس اگلی حدیث (1894) →