بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 129 — فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان حدیث 129
الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ ، زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ ، رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ ، عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ
أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ حَيْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ نُسَيٍّ الْكِنْدِيَّ، وَسُئِلَ عَنْ امْرَأَةٍ مَاتَتْ مَعَ قَوْمٍ لَيْسَ لَهَا وَلِيٌّ، فَقَالَ: "أَدْرَكْتُ أَقْوَامًا مَا كَانُوا يُشَدِّدُونَ تَشْدِيدَكُمْ، وَلَا يَسْأَلُونَ مَسَائِلَكُمْ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
رجاء بن حیوہ نے کہا: میں نے عبادہ بن نسی الکندی سے سنا ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا گیا جو کچھ لوگوں کے ساتھ فوت ہو گئی اور اس کا کوئی ولی موجود نہیں تھا تو انہوں نے کہا: میں نے ایسی جماعت کو پایا جو نہ تمہاری طرح تشدد کرتے اور نہ تمہارے جیسے مسائل پوچھتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 129]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 129] »
اس قول کی سند صحیح ہے اور اسے ابن عساکر نے [تاريخ ص: 47] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت
(تشریح حدیث 128)
اس میں صحابہ کرام کی فضیلت اور عدم تشدید کا بیان ہے۔
الحكم: إسناده صحيح
← پچھلی حدیث (128) باب پر واپس اگلی حدیث (130) →