بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

سنن دارمی

حدیث نمبر: 130 — فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان
کتب سنن دارمی مقدمہ فتویٰ دینے سے کراہت کا بیان حدیث 130
أَخْبَرَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي رَجَاءُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ مُسْلِمٍ الْقُرَشِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، بِمَرْجِ الدِّيبَاجِ فَرَأَيْتُ مِنْهُ خَلْوَةً، فَسَأَلْتُهُ عَنْ مَسْأَلَةٍ، فَقَالَ لِي: مَا تَصْنَعُ بِالْمَسَائِلِ؟، قُلْتُ:"لَوْلَا الْمَسَائِلُ، لَذَهَبَ الْعِلْمُ، قَالَ: "لَا تَقُلْ ذَهَبَ الْعِلْمُ، إِنَّهُ لَا يَذْهَبُ الْعِلْمُ مَا قُرِئَ الْقُرْآنُ، وَلَكِنْ لَوْ قُلْتَ: يَذْهَبُ الْفِقْهُ".
ترجمہ: محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشام بن مسلم قرشی نے کہا کہ میں ابن محیریز کے ساتھ وادی مرج الدیباج میں تھا، انہیں تنہا پا کر میں نے ان سے ایک مسئلہ دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: تم مسائل پوچھ کر کیا کرو گے؟ میں نے کہا: اگر مسائل نہ ہوتے تو علم مٹ جاتا، کہنے لگے یہ نہ کہو کہ علم مٹ جاتا، جب تک قرآن کریم پڑھا جاتا رہے گا، علم نہیں مٹے گا، ہاں تم یہ کہہ سکتے ہو کہ سمجھ بوجھ اٹھ جائے گی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 130]
تخریج الحدیث
تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 130] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 141/5] ، [تاريخ ابن عساكر 406/38] ۔
الحكم: إسناده ضعيف
← پچھلی حدیث (129) باب پر واپس اگلی حدیث (131) →