بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ابن صیاد کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم فتنے اور علامات قیامت باب: ابن صیاد کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2924 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "، فَقَالَ: لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: نہیں۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی ہے جو تمھارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7344 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "، فَقَالَ: لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: نہیں۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ وہی ہے جو تمھارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2924 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا "، فَقَالَ: دُخٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ "، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ، فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے تمھارے لیے (دل میں) ایک بات چھپائی ہے۔ وہ دُخَ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دور دفع ہو جا! تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7345 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: حَدَّثَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا "، فَقَالَ: دُخٌّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ "، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُ، فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہمیں خبر دی، کہا: ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی۔ انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے کہ ہم ابن صیاد کے پاس سے گزرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں نے تمھارے لیے (دل میں) ایک بات چھپائی ہے۔ وہ دُخَ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دور دفع ہو جا! تو اپنی حیثیت سے کبھی نہیں بڑھ سکے گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں تو میں اس کی گردن مار دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہے جس کا تمھیں خوف ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7345]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2925 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ، مَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، وَمَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ، وَصَادِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس (ابن صیاد) سے ملاقات ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کو یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس کا معاملہ خود) اس کے سامنے گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ اسے چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7346 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ، مَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، وَمَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ، وَصَادِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس (ابن صیاد) سے ملاقات ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کو یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس کا معاملہ خود) اس کے سامنے گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ اسے چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2926 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَبُو نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر کے والد (سلیمان) نے کہا: ہمیں ابونضرہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ابن صیاد سے ملاقات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے اور ابن صیاد (دوسرے) لڑکوں کے ساتھ تھا، پھر جریری کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7347]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7347 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَبُو نَضْرَةَ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ الْجُرَيْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر کے والد (سلیمان) نے کہا: ہمیں ابونضرہ نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، کہا کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ابن صیاد سے ملاقات ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے اور ابن صیاد (دوسرے) لڑکوں کے ساتھ تھا، پھر جریری کی حدیث کی طرح بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7347]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2927 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ لِي: " أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ؟ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدَ لِي، أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ، وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ، قَالَ: فَلَبَسَنِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داود نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مکہ کی طرف جاتے ہوئے (راستے میں) میرا اور ابن صیاد کا ساتھ ہو گیا۔ اس نے مجھ سے کہا: میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا: اس کے بچے نہیں ہوں گے؟ کہا: میں نے کہا: کیوں نہیں! (سنا تھا۔) اس نے کہا: میرے بچے ہوئے ہیں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا: وہ (دجال) مدینہ میں داخل ہو گا اور نہ مکہ میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اس نے کہا: میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا اور اب مکہ کی طرف جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا: دیکھیں! اللہ کی قسم! میں اس (دجال) کی جائے پیدائش، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں۔ (اس طرح) اس نے (اپنی حیثیت کے بارے میں) مجھے الجھا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7348]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7348 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ لِي: " أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ؟ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدَ لِي، أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ، وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ، قَالَ: فَلَبَسَنِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داود نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مکہ کی طرف جاتے ہوئے (راستے میں) میرا اور ابن صیاد کا ساتھ ہو گیا۔ اس نے مجھ سے کہا: میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا: اس کے بچے نہیں ہوں گے؟ کہا: میں نے کہا: کیوں نہیں! (سنا تھا۔) اس نے کہا: میرے بچے ہوئے ہیں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا: وہ (دجال) مدینہ میں داخل ہو گا اور نہ مکہ میں؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اس نے کہا: میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا اور اب مکہ کی طرف جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا: دیکھیں! اللہ کی قسم! میں اس (دجال) کی جائے پیدائش، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں۔ (اس طرح) اس نے (اپنی حیثیت کے بارے میں) مجھے الجھا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7348]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2927 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ " وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي، وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، وَقَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: وَلَا يُولَدُ لَهُ، وَقَدْ وُلِدَ لِي، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ، وَقَدْ حَجَجْتُ، قَالَ: فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر کے والد (سلیمان) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، کہا: مجھ سے ابن صیاد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی۔ (اس نے کہا:) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں، مگر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: دجال یہودی ہو گا۔ اور میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ کہا: وہ لاولد ہو گا۔ جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ نے مکہ (میں داخلہ) اس پر حرام کر دیا ہے۔ اور میں حج کر چکا ہوں۔ (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: وہ (ابن صیاد) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی، کہا: پھر وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے، میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں۔ کہا: اس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات اچھی لگے گی کہ تم وہی (دجال) آدمی ہو؟ اس نے کہا: اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7349]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7349 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُعْتَمِرٌ ، أَبِي ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ صَائِدٍ " وَأَخَذَتْنِي مِنْهُ ذَمَامَةٌ هَذَا عَذَرْتُ النَّاسَ مَا لِي، وَلَكُمْ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ، أَلَمْ يَقُلْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ يَهُودِيٌّ، وَقَدْ أَسْلَمْتُ، قَالَ: وَلَا يُولَدُ لَهُ، وَقَدْ وُلِدَ لِي، وَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَيْهِ مَكَّةَ، وَقَدْ حَجَجْتُ، قَالَ: فَمَا زَالَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَأْخُذَ فِيَّ قَوْلُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْآنَ حَيْثُ هُوَ وَأَعْرِفُ أَبَاهُ وَأُمَّهُ، قَالَ: وَقِيلَ لَهُ: أَيَسُرُّكَ أَنَّكَ ذَاكَ الرَّجُلُ؟، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ عُرِضَ عَلَيَّ مَا كَرِهْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر کے والد (سلیمان) ابونضرہ سے اور وہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، کہا: مجھ سے ابن صیاد نے ایک بات کہی تو مجھے اس کے سامنے شرمندگی محسوس ہوئی۔ (اس نے کہا:) اس بات پر میں اور لوگوں کو معذور سمجھتا ہوں، مگر اے اصحاب محمد! آپ لوگوں کا میرے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ کیا اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: دجال یہودی ہو گا۔ اور میں مسلمان ہو چکا ہوں۔ کہا: وہ لاولد ہو گا۔ جبکہ میری اولاد ہوئی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا: اللہ نے مکہ (میں داخلہ) اس پر حرام کر دیا ہے۔ اور میں حج کر چکا ہوں۔ (حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے) کہا: وہ (ابن صیاد) مسلسل ایسی باتیں کرتا رہا جن سے امکان تھا کہ اس کی بات میرے دل میں بیٹھ جاتی، کہا: پھر وہ کہنے لگا: اللہ کی قسم! اس وقت میں یہ بات جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے، میں اس کے ماں باپ کو بھی جانتا ہوں۔ کہا: اس سے پوچھا گیا کہ کیا تمھیں یہ بات اچھی لگے گی کہ تم وہی (دجال) آدمی ہو؟ اس نے کہا: اگر مجھ کو اس کی پیش کش کی جائے تو میں اسے ناپسند نہیں کروں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7349]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2927 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا، وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ، فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ، قَالَ: وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي، فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ، فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ، فَقَالَ: اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ، مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ، أَوَ قَالَ: آخُذَ عَنْ يَدِهِ، فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا، فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ، ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ كَافِرٌ، وَأَنَا مُسْلِمٌ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ، وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ، وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صیاد بھی تھا۔ ایک منزل میں ہم اترے، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صیاد دونوں رہ گئے۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے (کہ دجال ہے)۔ ابن صیاد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا (مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی)۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں۔ ابن صیاد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا۔ ابن صیاد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں (اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں) کہ پھر کہنے لگا: البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے۔ کہا: میں نے اس سے کہا: باقی سارا دن تیرے لیے تباہی اور ہلاکت ہو! (تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7350]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7350 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: " خَرَجْنَا حُجَّاجًا أَوْ عُمَّارًا، وَمَعَنَا ابْنُ صَائِدٍ، قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا، فَتَفَرَّقَ النَّاسُ وَبَقِيتُ أَنَا وَهُوَ، فَاسْتَوْحَشْتُ مِنْهُ وَحْشَةً شَدِيدَةً مِمَّا يُقَالُ عَلَيْهِ، قَالَ: وَجَاءَ بِمَتَاعِهِ فَوَضَعَهُ مَعَ مَتَاعِي، فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ، فَلَوْ وَضَعْتَهُ تَحْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةِ، قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَرُفِعَتْ لَنَا غَنَمٌ فَانْطَلَقَ فَجَاءَ بِعُسٍّ، فَقَالَ: اشْرَبْ أَبَا سَعِيدٍ، فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَرَّ شَدِيدٌ وَاللَّبَنُ حَارٌّ، مَا بِي إِلَّا أَنِّي أَكْرَهُ أَنْ أَشْرَبَ عَنْ يَدِهِ، أَوَ قَالَ: آخُذَ عَنْ يَدِهِ، فَقَالَ أَبَا سَعِيدٍ: لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آخُذَ حَبْلًا، فَأُعَلِّقَهُ بِشَجَرَةٍ، ثُمَّ أَخْتَنِقَ مِمَّا يَقُولُ لِي النَّاسُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ مَنْ خَفِيَ عَلَيْهِ حَدِيثُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا خَفِيَ عَلَيْكُمْ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتَ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِحَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ كَافِرٌ، وَأَنَا مُسْلِمٌ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هُوَ عَقِيمٌ لَا يُولَدُ لَهُ، وَقَدْ تَرَكْتُ وَلَدِي بِالْمَدِينَةِ، أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ وَلَا مَكَّةَ، وَقَدْ أَقْبَلْتُ مِنْ الْمَدِينَةِ وَأَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَعْذِرَهُ، ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُهُ وَأَعْرِفُ مَوْلِدَهُ وَأَيْنَ هُوَ الْآنَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: تَبًّا لَكَ سَائِرَ الْيَوْمِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم حج یا عمرہ کو نکلے اور ہمارے ساتھ ابن صیاد بھی تھا۔ ایک منزل میں ہم اترے، لوگ ادھر ادھر چلے گئے اور میں اور ابن صیاد دونوں رہ گئے۔ مجھے اس وجہ سے اس سے سخت وحشت ہوئی کہ لوگ اس کے بارے میں جو کہا کرتے تھے (کہ دجال ہے)۔ ابن صیاد اپنا اسباب لے کر آیا اور میرے اسباب کے ساتھ رکھ دیا (مجھے اور زیادہ وحشت ہوئی)۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اگر تو اپنا اسباب اس درخت کے نیچے رکھے تو بہتر ہے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر ہمیں بکریاں دکھلائی دیں۔ ابن صیاد گیا اور دودھ لے کر آیا اور کہنے لگا کہ ابوسعید! دودھ پی۔ میں نے کہا کہ گرمی بہت ہے اور دودھ گرم ہے اور دودھ نہ پینے کی اس کے سوا کوئی وجہ نہ تھی کہ مجھے اس کے ہاتھ سے پینا برا معلوم ہوا۔ ابن صیاد نے کہا کہ اے ابوسعید! میں نے قصد کیا ہے کہ ایک رسی لوں اور درخت میں لٹکا کر اپنے آپ کو پھانسی دے لوں ان باتوں کی وجہ سے جو لوگ میرے حق میں کہتے ہیں۔ اے ابوسعید! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث اتنی کس سے پوشیدہ ہے جتنی تم انصار کے لوگوں سے پوشیدہ ہے۔ کیا تم سب لوگوں سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کو نہیں جانتے؟ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نہیں فرمایا کہ دجال کافر ہو گا اور میں تو مسلمان ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال لاولد ہو گا اور میری اولاد مدینہ میں موجود ہے۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ دجال مدینہ میں اور مکہ میں نہ جائے گا اور میں مدینہ سے آ رہا ہوں اور مکہ کو جا رہا ہوں؟ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ (اس کی ایسی باتوں کی وجہ سے) قریب تھا کہ میں اس کا طرفدار بن جاؤں (اور لوگوں کا اس کے بارے میں کہنا غلط سمجھوں) کہ پھر کہنے لگا: البتہ اللہ کی قسم! میں دجال کو پہچانتا ہوں اور اس کے پیدائش کا مقام جانتا ہوں اور یہ بھی جانتا ہوں کہ اب وہ کہاں ہے۔ کہا: میں نے اس سے کہا: باقی سارا دن تیرے لیے تباہی اور ہلاکت ہو! (تیرا اس سے اتنا قرب کیسے ہوا؟) [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7350]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2928 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ: " مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ، قَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: صَدَقْتَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومسلمہ نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا: جنت کی مٹی کیسی ہے؟ اس نے کہا: اے ابوالقاسم ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! باریک سفید، کستوری (جیسی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے سچ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7351]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7351 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، أَبِي مَسْلَمَةَ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ: " مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ، قَالَ: دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، قَالَ: صَدَقْتَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومسلمہ نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا: جنت کی مٹی کیسی ہے؟ اس نے کہا: اے ابوالقاسم ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! باریک سفید، کستوری (جیسی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تو نے سچ کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7351]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2928 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ؟، فَقَالَ: " دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنت کی مٹی کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: باریک سفید، خالص کستوری (کی طرح) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7352]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7352 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ؟، فَقَالَ: " دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ابن صیاد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنت کی مٹی کے متعلق سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: باریک سفید، خالص کستوری (کی طرح) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7352]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2929 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ: أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ؟، قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن منکدر سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے۔ میں نے کہا: آپ (اس بات پر) اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر قسم کھاتے ہوئے دیکھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7353 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: " رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَحْلِفُ بِاللَّهِ أَنَّ ابْنَ صَائِدٍ الدَّجَّالُ، فَقُلْتُ: أَتَحْلِفُ بِاللَّهِ؟، قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ يَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَمْ يُنْكِرْهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن منکدر سے روایت ہے، کہا: میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ اللہ کی قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ ابن صیاد دجال ہے۔ میں نے کہا: آپ (اس بات پر) اللہ کی قسم کھا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اس بات پر قسم کھاتے ہوئے دیکھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پر انکار نہیں فرمایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7353]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة