بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2925 — باب: ابن صیاد کا بیان۔
کتب صحیح مسلم فتنے اور علامات قیامت باب: ابن صیاد کا بیان۔ حدیث 2925
حدیث نمبر: 2925 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: لَقِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟، فَقَالَ هُوَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ، مَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرَى عَرْشَ إِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، وَمَا تَرَى؟ "، قَالَ: أَرَى صَادِقَيْنِ وَكَاذِبًا أَوْ كَاذِبَيْنِ، وَصَادِقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لُبِسَ عَلَيْهِ دَعُوهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حریری نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مدینہ کے ایک راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی اس (ابن صیاد) سے ملاقات ہوئی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اللہ پر، اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر ایمان لایا ہوں، تجھے کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: مجھے پانی پر ایک تخت نظر آتا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم سمندر پر ابلیس کا تخت دیکھ رہے ہو، تجھے اور کیا نظر آتا ہے؟ اس نے کہا: میں دو سچوں اور ایک جھوٹے کو یا دو جھوٹوں اور ایک سچے کو دیکھتا ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس کا معاملہ خود) اس کے سامنے گڈ مڈ کر دیا گیا ہے۔ اسے چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7346]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2924) باب پر واپس اگلی حدیث (2926) →