عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا، وقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ "، فَقَالَ: لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے اعمش سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم چند لڑکوں کے پاس سے گزرے، ان میں ابن صیاد بھی تھا، سب بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھ گیا، تو ایسا لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کو ناپسند کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تیرے ہاتھ خاک آلودہ ہوں! کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: نہیں۔ بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کو قتل کر دوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ وہی ہے جو تمھارا گمان ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکو گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7344]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة