عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، دَاوُدُ ، أَبِي نَضْرَةَ ، أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: صَحِبْتُ ابْنَ صَائِدٍ إِلَى مَكَّةَ، فَقَالَ لِي: " أَمَا قَدْ لَقِيتُ مِنَ النَّاسِ يَزْعُمُونَ أَنِّي الدَّجَّالُ؟ أَلَسْتَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّهُ لَا يُولَدُ لَهُ؟، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدَ لِي، أَوَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا يَدْخُلُ الْمَدِينَةَ، وَلَا مَكَّةَ؟ قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَدْ وُلِدْتُ بِالْمَدِينَةِ، وَهَذَا أَنَا أُرِيدُ مَكَّةَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي فِي آخِرِ قَوْلِهِ: أَمَا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ مَوْلِدَهُ، وَمَكَانَهُ وَأَيْنَ هُوَ، قَالَ: فَلَبَسَنِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داود نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مکہ کی طرف جاتے ہوئے (راستے میں) میرا اور ابن صیاد کا ساتھ ہو گیا۔ اس نے مجھ سے کہا: میں کچھ ایسے لوگوں سے ملا ہوں جو سمجھتے ہیں کہ میں دجال ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے نہیں سنا تھا: ”اس کے بچے نہیں ہوں گے“؟ کہا: میں نے کہا: کیوں نہیں! (سنا تھا۔) اس نے کہا: میرے بچے ہوئے ہیں۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہتے ہوئے نہیں سنا تھا: ”وہ (دجال) مدینہ میں داخل ہو گا اور نہ مکہ میں“؟ میں نے کہا: کیوں نہیں! اس نے کہا: میں مدینہ کے اندر پیدا ہوا اور اب مکہ کی طرف جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا: پھر اپنی بات کے آخر میں اس نے مجھ سے کہا: دیکھیں! اللہ کی قسم! میں اس (دجال) کی جائے پیدائش، اس کے رہنے کی جگہ اور وہ کہاں ہے سب جانتا ہوں۔ (اس طرح) اس نے (اپنی حیثیت کے بارے میں) مجھے الجھا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7348]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة