بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالی کا فرمان: ”نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں“۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم توبہ کا بیان باب: اللہ تعالی کا فرمان: ”نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 2763 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: " فَنَزَلَتْ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 "، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید نے کہا: ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے ایک عورت کو بوسہ دیا، (پھر) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعے کا ذکر کیا، تب (یہ آیت) نازل ہوئی: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو، بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ یاد دہانی ہے یاد رکھنے والوں کے لیے۔ اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ (بشارت) صرف میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جو بھی (گناہوں سے پاک ہونے کے لیے) اس پر عمل کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7001]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7001 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، التَّيْمِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ كلاهما، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، " أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: " فَنَزَلَتْ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114 "، قَالَ: فَقَالَ الرَّجُلُ: أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟، قَالَ: " لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید نے کہا: ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے ایک عورت کو بوسہ دیا، (پھر) وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعے کا ذکر کیا، تب (یہ آیت) نازل ہوئی: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو، بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں، یہ یاد دہانی ہے یاد رکھنے والوں کے لیے۔ اس شخص نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ (بشارت) صرف میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں سے جو بھی (گناہوں سے پاک ہونے کے لیے) اس پر عمل کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7001]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2763 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبُو عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے ایک عورت کو بوسہ دیا ہے یا اس کو ہاتھ سے مس کیا ہے (یا ایسا) کوئی اور کام کیا ہے، گویا کہ وہ اس کے کفارے کے متعلق سوال کر رہا ہے، کہا: تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، پھر یزید کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7002]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7002 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ ، أَبِيهِ ، أَبُو عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ أَبِيهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معتمر نے اپنے والد (سلیمان تیمی) سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے ایک عورت کو بوسہ دیا ہے یا اس کو ہاتھ سے مس کیا ہے (یا ایسا) کوئی اور کام کیا ہے، گویا کہ وہ اس کے کفارے کے متعلق سوال کر رہا ہے، کہا: تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی، پھر یزید کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7002]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2763 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا سے کم درجے کا کوئی کام کیا۔ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے اس کے سامنے اس کو بہت بڑا گناہ قرار دیا، پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی اس کے لیے اس کو بہت بڑی بات قرار دیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، (آگے) یزید اور معتمر کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7003]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7003 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، جَرِيرٌ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ: أَصَابَ رَجُلٌ مِنَ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ، فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی، کہا: ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا سے کم درجے کا کوئی کام کیا۔ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، انہوں نے اس کے سامنے اس کو بہت بڑا گناہ قرار دیا، پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بھی اس کے لیے اس کو بہت بڑی بات قرار دیا، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، (آگے) یزید اور معتمر کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7003]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2763 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ، قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا لَهُ خَاصَّةً؟، قَالَ: بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواحوص نے سماک سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابوکر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا۔ تو (اب) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ نے تمہارا پردہ رکھا، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ تو (کچھ دیر بعد) وہ شخص اٹھا اور چل دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو، بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے یاد دہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7004]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7004 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ، قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا لَهُ خَاصَّةً؟، قَالَ: بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواحوص نے سماک سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابوکر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا۔ تو (اب) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ نے تمہارا پردہ رکھا، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ تو (کچھ دیر بعد) وہ شخص اٹھا اور چل دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو، بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے یاد دہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں۔ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7004]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2763 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً، قَالَ: بَلْ لَكُمْ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو اپنے ماموں اسود سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابواحوص کی حدیث کے ہم معنی روایت کی، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے یا عمومی طور پر ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم سب کے لیے عام ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7005]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7005 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً، قَالَ: بَلْ لَكُمْ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو اپنے ماموں اسود سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابواحوص کی حدیث کے ہم معنی روایت کی، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے یا عمومی طور پر ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ تم سب کے لیے عام ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7005]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2764 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ، قَالَ: هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " قَدْ غُفِرَ لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے حد (لگنے والے کام) کا ارتکاب کر لیا ہے، مجھ پر حد قائم کیجیے۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: (تب) نماز کا وقت آ گیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نماز پڑھ لی تو کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کیا ہے، میرے بارے میں اللہ کی کتاب کا (جو) فیصلہ (ہے اسے) نافذ فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوا؟ اس نے عرض کی: ہاں، فرمایا: تیرا گناہ بخش دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7006]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7006 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، هَمَّامٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ: وَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ، قَالَ: هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " قَدْ غُفِرَ لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی: اللہ کے رسول! میں نے حد (لگنے والے کام) کا ارتکاب کر لیا ہے، مجھ پر حد قائم کیجیے۔ (حضرت انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: (تب) نماز کا وقت آ گیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی۔ جب نماز پڑھ لی تو کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کیا ہے، میرے بارے میں اللہ کی کتاب کا (جو) فیصلہ (ہے اسے) نافذ فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوا؟ اس نے عرض کی: ہاں، فرمایا: تیرا گناہ بخش دیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7006]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2765 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، شَدَّادٌ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ، فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ؟ "، قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟ "، فَقَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوَ قَالَ ذَنْبَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شداد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا تو کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کر دیا ہے، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، اس نے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں، آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، اس نے تیسری بار (یہی) کہا تو (اس وقت) نماز کی اقامت کہہ دی گئی۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) واپس ہوئے تو وہ شخص آپ کے پیچھے چل پڑا، میں (بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملا اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کہا: ذرا دیکھو: جب تم اپنے گھر سے نکلے تھے تو تم نے وضو کیا تھا اور اچھی طرح وضو کیا تھا؟ اس نے عرض کی: ہاں، اللہ کے رسول! (اچھی طرح وضو کیا تھا۔) فرمایا: اس کے بعد تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کے رسول! (حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد۔۔ یا فرمایا۔۔ تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7007]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 7007 صحیح مسلم
نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، شَدَّادٌ ، أَبُو أُمَامَةَ
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ، وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا، فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ، وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ، فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ، قَالَ أَبُو أُمَامَةَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ، فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ؟ "، قَالَ: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا؟ "، فَقَالَ: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوَ قَالَ ذَنْبَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شداد نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، کہا: ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا تو کہنے لگا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کر دیا ہے، لہٰذا آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، اس نے دوبارہ کہا: اللہ کے رسول! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں، آپ مجھ پر حد قائم کیجیے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش رہے، اس نے تیسری بار (یہی) کہا تو (اس وقت) نماز کی اقامت کہہ دی گئی۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے (فارغ ہو کر) واپس ہوئے تو وہ شخص آپ کے پیچھے چل پڑا، میں (بھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جا ملا اور کہا: اللہ کے رسول! میں نے حد (کے قابل گناہ) کا ارتکاب کیا ہے، آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں۔ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کہا: ذرا دیکھو: جب تم اپنے گھر سے نکلے تھے تو تم نے وضو کیا تھا اور اچھی طرح وضو کیا تھا؟ اس نے عرض کی: ہاں، اللہ کے رسول! (اچھی طرح وضو کیا تھا۔) فرمایا: اس کے بعد تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ اس نے عرض کی: جی ہاں، اللہ کے رسول! (حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے فرمایا: تو یقیناً اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد۔۔ یا فرمایا۔۔ تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7007]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة