مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عُقْبَةَ وَهُوَ ابْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ يَعْنِي لَيْلَةَ الْقَدْرِ فَإِنْ ضَعُفَ أَحَدُكُمْ أَوْ عَجَزَ، فَلَا يُغْلَبَنَّ عَلَى السَّبْعِ الْبَوَاقِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقبہ نے کہا: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس یعنی لیلۃ القدر کو آخری دس راتوں میں تلاش کرو، اگر تم میں سے کوئی کمزور پڑ جائے یا بے بس ہو جائے تو وہ باقی کی سات راتوں میں (کسی صورت سستی یا کمزوری سے) مغلوب نہ ہو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2765]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة