يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، سِمَاكٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، وَالْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى، قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ، وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا، فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ، قَالَ: فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا، فَقَامَ الرَّجُلُ، فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ، وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، هَذَا لَهُ خَاصَّةً؟، قَالَ: بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواحوص نے سماک سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کی کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابوکر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا۔ تو (اب) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: اللہ نے تمہارا پردہ رکھا، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے۔ (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ تو (کچھ دیر بعد) وہ شخص اٹھا اور چل دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی: «وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ» ”دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو، بے شک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں۔ یہ ان کے لیے یاد دہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں۔“ اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا: اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7004]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة