مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً، قَالَ: بَلْ لَكُمْ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابراہیم کو اپنے ماموں اسود سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، انہوں نے حضرت عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ابواحوص کی حدیث کے ہم معنی روایت کی، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اللہ کے رسول! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے یا عمومی طور پر ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تم سب کے لیے عام ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّوْبَةِ/حدیث: 7005]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة