بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم انبیائے کرام علیہم السلام کے فضائل باب: اللہ تعالیٰ کا سب سے زیادہ علم اور سب سے زیادہ خوف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 2356 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوضحیٰ (مسلم) سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بعض کو یہ خبر پہنچی، انہوں نے گویا کہ اس (رخصت اور اجازت) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: "ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ اللہ کی قسم! میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور اس (اللہ) کی خشیت میں ان سب سے بڑھ کر ہوں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6109]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6109 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوضحیٰ (مسلم) سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بعض کو یہ خبر پہنچی، انہوں نے گویا کہ اس (رخصت اور اجازت) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: "ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ اللہ کی قسم! میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور اس (اللہ) کی خشیت میں ان سب سے بڑھ کر ہوں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6109]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2356 صحیح مسلم
أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وقَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَكِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حفص بن غیاث اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6110]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6110 صحیح مسلم
أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ ، إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، الْأَعْمَشِ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ يَعْنِي ابْنَ غِيَاثٍ . ح وحَدَّثَنَاه إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، وقَالَا: أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَكِلَاهُمَا، عَنْ الْأَعْمَشِ ، بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ نَحْوَ حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حفص بن غیاث اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے اعمش سے جریر کی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کے مانند ہمیں حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6110]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2356 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے (ابوضحیٰ) مسلم سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کو اسے کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6111]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 6111 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے (ابوضحیٰ) مسلم سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کو اسے کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6111]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة