زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرًا فَتَرَخَّصَ فِيهِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِهِ، فَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ، فَقَامَ خَطِيبًا، فَقَالَ: مَا بَالُ رِجَالٍ بَلَغَهُمْ عَنِّي أَمْرٌ تَرَخَّصْتُ فِيهِ، فَكَرِهُوهُ وَتَنَزَّهُوا عَنْهُ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں اعمش سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوضحیٰ (مسلم) سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی کام کیا اور اس کی اجازت عطا فرمائی آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بعض کو یہ خبر پہنچی، انہوں نے گویا کہ اس (رخصت اور اجازت) کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: "ان لوگوں کا کیا حال ہے کہ جن کو خبر ملی کہ میں نے ایک کام کی اجازت دی ہے تو انہوں نے اس کام کو ناپسند کیا اور اس کام سے پرہیز کیا۔ اللہ کی قسم! میں ان سب سے زیادہ اللہ کا علم رکھتا ہوں اور اس (اللہ) کی خشیت میں ان سب سے بڑھ کر ہوں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6109]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة