أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَمْرٍ، فَتَنَزَّهَ عَنْهُ نَاسٌ مِنَ النَّاسِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَغَضِبَ حَتَّى بَانَ الْغَضَبُ فِي وَجْهِهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَرْغَبُونَ عَمَّا رُخِّصَ لِي فِيهِ، فَوَاللَّهِ لَأَنَا أَعْلَمُهُمْ بِاللَّهِ، وَأَشَدُّهُمْ لَهُ خَشْيَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے (ابوضحیٰ) مسلم سے، انہوں نے مسروق سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کام میں رخصت روا رکھی۔ لوگوں میں سے کچھ نے خود کو اسے کرنے سے زیادہ پاکباز خیال کیا۔ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معلوم ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو غصہ آیا حتیٰ کہ غصہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور سے ظاہر ہوا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "لوگوں کا کیا حال ہے کہ جس کام میں مجھے رخصت دی گئی ہے اس سے احتراز کرتے ہیں؟ اللہ کی قسم میں تو سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو جانتا ہوں اور سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہوں۔" [صحيح مسلم/كِتَاب الْفَضَائِلِ/حدیث: 6111]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة