بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عود ہندی کے ذریعے علاج کرنے کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سلامتی اور صحت کا بیان باب: عود ہندی کے ذریعے علاج کرنے کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 287 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَر ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَر ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جس نے (ابھی تک) کھانا شروع نہیں کیا تھا، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5762]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5762 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَر ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَابْنُ أَبِي عُمَر ، وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ، قَالَ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ قَيْسٍ بِنْتِ مِحْصَنٍ أُخْتِ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ ، قَالَتْ: دَخَلْتُ بِابْنٍ لِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْكُلِ الطَّعَامَ، فَبَالَ عَلَيْهِ فَدَعَا بِمَاءٍ فَرَشَّهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عیینہ نے زہری سے، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے، انہوں نے عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہا: میں اپنے بیٹے کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی جس نے (ابھی تک) کھانا شروع نہیں کیا تھا، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگا کر اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5762]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2214 صحیح مسلم
قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
انہوں نے (ام قیس رضی اللہ عنہا) کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا (تاکہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ (آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرمایا۔) تم عود ہندی کا استعمال لازم کر لو۔ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5763]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5763 صحیح مسلم
قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
انہوں نے (ام قیس رضی اللہ عنہا) کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا (تاکہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ (آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرمایا۔) تم عود ہندی کا استعمال لازم کر لو۔ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جاتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5763]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2214 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقَتْ غَمَزَتْ فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس بن یزید نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا۔ پہلے پہل ہجرت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیعت کی تھی۔ یہ بنو اسد بن خزیمہ کے فرد حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ کہا: انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، انہوں نے گلے کی سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے دبایا تھا۔ یونس نے کہا حلق دبایا تھا۔ یعنی انگلی چبھوئی تھی (تاکہ فاسد خون نکل جائے) انہیں یہ خوف تھا کہ اس گلے کے اندر سوزش ہے۔ انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس انگلی چبھونے والے طریقے سے تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ اس عود ہندی یعنی کست کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5764]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5764 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، قال: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ أُمَّ قَيْسٍ بِنْتَ مِحْصَنٍ ، وَكَانَتْ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ الْأُوَلِ اللَّاتِي بَايَعْنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهِيَ أُخْتُ عُكَّاشَةَ بْنِ مِحْصَنٍ أَحَدِ بَنِي أَسَدِ بْنِ خُزَيْمَةَ، قَالَ: أَخْبَرَتْنِي أَنَّهَا أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِابْنٍ لَهَا لَمْ يَبْلُغْ أَنْ يَأْكُلَ الطَّعَامَ، وَقَدْ أَعْلَقَتْ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، قَالَ يُونُسُ: أَعْلَقَتْ غَمَزَتْ فَهِيَ تَخَافُ أَنْ يَكُونَ بِهِ عُذْرَةٌ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْإِعْلَاقِ عَلَيْكُمْ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ يَعْنِي بِهِ الْكُسْتَ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس بن یزید نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں بتایا کہا: مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ حضرت ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا۔ پہلے پہل ہجرت کرنے والی ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیعت کی تھی۔ یہ بنو اسد بن خزیمہ کے فرد حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کی بہن تھیں۔ کہا: انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اپنے ایک بیٹے کو لے کر آئیں جو ابھی کھانا کھانے کی عمر کو نہیں پہنچا تھا، انہوں نے گلے کی سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے دبایا تھا۔ یونس نے کہا حلق دبایا تھا۔ یعنی انگلی چبھوئی تھی (تاکہ فاسد خون نکل جائے) انہیں یہ خوف تھا کہ اس گلے کے اندر سوزش ہے۔ انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس انگلی چبھونے والے طریقے سے تم اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ اس عود ہندی یعنی کست کا استعمال کرو کیونکہ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5764]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 287 صحیح مسلم
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ نے کہا: انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اسی بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا تھا اور اس کو زیادہ رگڑ کر نہیں دھویا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5765]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5765 صحیح مسلم
قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: وَأَخْبَرَتْنِي أَنَّ ابْنَهَا ذَاكَ بَالَ فِي حَجْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَاءٍ فَنَضَحَهُ عَلَى بَوْلِهِ وَلَمْ يَغْسِلْهُ غَسْلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ نے کہا: انہوں (ام قیس رضی اللہ عنہا) نے مجھ سے بیان کیا کہ ان کے اسی بچے نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود میں پیشاب کر دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا تھا اور اس کو زیادہ رگڑ کر نہیں دھویا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5765]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة