قَالَتْ: وَدَخَلْتُ عَلَيْهِ بِابْنٍ لِي قَدْ أَعْلَقْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْعُذْرَةِ، فَقَالَ: " عَلَامَهْ تَدْغَرْنَ أَوْلَادَكُنَّ بِهَذَا الْعِلَاقِ عَلَيْكُنَّ بِهَذَا الْعُودِ الْهِنْدِيِّ، فَإِنَّ فِيهِ سَبْعَةَ أَشْفِيَةٍ مِنْهَا ذَاتُ الْجَنْبِ يُسْعَطُ مِنَ الْعُذْرَةِ وَيُلَدُّ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
انہوں نے (ام قیس رضی اللہ عنہا) کہا: میں اپنے ایک بچے کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، میں نے اس کے گلے میں سوزش کی بنا پر اس کے حلق کو انگلی سے اوپر کی طرف دبایا تھا (تاکہ سوزش کی وجہ سے لٹکا ہوا حصہ اوپر ہو جائے) تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم انگلیوں کے دباؤ کے ذریعے سے اپنے بچوں کا گلا کیوں دباتی ہو؟ (آپ نے بچوں کے لیے اس تکلیف دہ طریقہ علاج کو ناپسند فرمایا۔) تم عود ہندی کا استعمال لازم کر لو۔ اس میں سات اقسام کی شفا ہے ان میں سے ایک نمونیا حلق کی سوزش کے لیے اس کو ناک کے راستے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور نمونیے کے لیے اسے منہ میں انڈیلا جاتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب السَّلَامِ/حدیث: 5763]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة