الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ ، أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، أَبُو مُوسَى
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ ، أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُخَيْمِرَةَ حَدَّثَهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: وَجِعَ أَبُو مُوسَى وَجَعًا فَغُشِيَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ فِي حَجْرِ امْرَأَةٍ مِنْ أَهْلِهِ، فَصَاحَتِ امْرَأَةٌ مِنْ أَهْلِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهَا شَيْئًا، فَلَمَّا أَفَاقَ، قَالَ: " أَنَا بَرِيءٌ مِمَّا بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرِئَ مِنَ الصَّالِقَةِ، وَالْحَالِقَةِ، وَالشَّاقَّةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا کہ مجھے ابوبردہ بن ابی موسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: ”حضرت ابوموسیٰ (اشعری) نے بیان کیا، انہوں نے فرمایا: حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ایسے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی، ان کا سر ان کے اہل خانہ میں سے ایک عورت کی گود میں تھا، (اس موقع پر) ان کے اہل میں سے ایک عورت چیخنے لگی، حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ (شدید کمزوری کی وجہ سے) اسے کوئی جواب نہ دے سکے۔ جب افاقہ ہوا تو کہنے لگے: میں اس بات سے بری ہوں جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے براءت کا اظہار فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چلا کر ماتم کرنے والی، سر منڈانے والی اور گریبان چاک کرنے والی (عورتوں) سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 287]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة