بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم لباس اور زینت کے احکام باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا "، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب (بازار میں) ایک ریشمی حلہ (ایک جیسی ریشمی چادروں کا جوڑا بکتے ہوئے) دیکھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خرید لیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے (خطبہ دینے کے لیے) اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو (دنیا میں) صرف وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد (بن حاجب بن زرارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے) کے حلے کے بارے میں جو فرمایا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5401]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5401 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، قال: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اشْتَرَيْتَ هَذِهِ فَلَبِسْتَهَا لِلنَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلِلْوَفْدِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، ثُمَّ جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا حُلَلٌ، فَأَعْطَى عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَسَوْتَنِيهَا وَقَدْ قُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا "، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ مُشْرِكًا بِمَكَّةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مالک نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے کے قریب (بازار میں) ایک ریشمی حلہ (ایک جیسی ریشمی چادروں کا جوڑا بکتے ہوئے) دیکھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! کتنا اچھا ہو اگر آپ یہ حلہ خرید لیں اور جمعہ کے دن لوگوں کے سامنے (خطبہ دینے کے لیے) اور جب کوئی وفد آپ کے پاس آئے تو اسے زیب تن فرمائیے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کو (دنیا میں) صرف وہ لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ان میں سے کچھ ریشمی حلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو عطا فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے یہ حلہ پہننے کے لیے دیا ہے حالانکہ آپ نے عطارد (بن حاجب بن زرارہ جو مسجد کے دروازے کے باہر حلے بیچ رہے تھے) کے حلے کے بارے میں جو فرمایا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ حلہ تم کو پہننے کے لیے نہیں دیا۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ مکہ میں اپنے ایک بھائی کو دے دیا جو مشرک تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5401]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5402]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5402 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ . ح وحَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عن النبي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِكٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ اور موسیٰ بن عقبہ دونوں نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5402]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظُنُّهُ، قَالَ: وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً، وَقَالَ: شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا "، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا، عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ (بیچنے کے لیے) اس کی قیمت بتا رہا ہے۔ یہ بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے انعام و اکرام وصول کرتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو دیکھا ہے وہ بازار میں ایک ریشمی حلہ بیچ رہا ہے، آپ اسے خرید لیں تو آپ عرب کے وفود آتے (اس وقت) آپ اس کو زیب تن فرمائیں اور میرا خیال ہے (یہ بھی) کہا: اور جمعہ کے دن بھی آپ اسے زیب تن فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں ریشم صرف وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس واقعے کے بعد (کچھ دن گزرے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کئی ریشمی حلے آئے، آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، ایک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے حلے کو اٹھا کر لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے یہ حلہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ نے کل ہی عطارد کے حلے کے متعلق فرمایا تھا جو آپ نے فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس یہ حلہ اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے تم خود پہنو، بلکہ میں نے تمہارے پاس یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے کچھ (فائدہ) حاصل کرو۔ تو رہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو وہ اپنا حلہ پہن کر آگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اس طرح دیکھا جس سے انہیں پتہ چل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کا ایسا کرنا پسند نہیں آیا، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ آپ ہی نے تو اسے میرے پاس بھیجا تھا۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم خود اس کو پہن لو۔ بلکہ میں نے اس لیے اس حلے کو تمہارے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5403]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5403 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال: رَأَى عُمَرُ عُطَارِدًا التَّمِيمِيَّ يُقِيمُ بِالسُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، وَكَانَ رَجُلًا يَغْشَى الْمُلُوكَ وَيُصِيبُ مِنْهُمْ، فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي رَأَيْتُ عُطَارِدًا يُقِيمُ فِي السُّوقِ حُلَّةً سِيَرَاءَ، فَلَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا لِوُفُودِ الْعَرَبِ إِذَا قَدِمُوا عَلَيْكَ وَأَظُنُّهُ، قَالَ: وَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ "، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحُلَلٍ سِيَرَاءَ، فَبَعَثَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ وَبَعَثَ إِلَى أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ بِحُلَّةٍ، وَأَعْطَى عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ حُلَّةً، وَقَالَ: شَقِّقْهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُمَرُ بِحُلَّتِهِ يَحْمِلُهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ وَقَدْ قُلْتَ بِالْأَمْسِ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا "، وَأَمَّا أُسَامَةُ فَرَاحَ فِي حُلَّتِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرًا، عَرَفَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْكَرَ مَا صَنَعَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَنْظُرُ إِلَيَّ فَأَنْتَ بَعَثْتَ إِلَيَّ بِهَا، فَقَالَ: " إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا، وَلَكِنِّي بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُشَقِّقَهَا خُمُرًا بَيْنَ نِسَائِكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن حازم نے کہا: ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت بیان کی کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ عطارد تمیمی بازار میں ایک ریشمی حلہ (بیچنے کے لیے) اس کی قیمت بتا رہا ہے۔ یہ بادشاہوں کے پاس جایا کرتا تھا اور ان سے انعام و اکرام وصول کرتا تھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے عطارد کو دیکھا ہے وہ بازار میں ایک ریشمی حلہ بیچ رہا ہے، آپ اسے خرید لیں تو آپ عرب کے وفود آتے (اس وقت) آپ اس کو زیب تن فرمائیں اور میرا خیال ہے (یہ بھی) کہا: اور جمعہ کے دن بھی آپ اسے زیب تن فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں ریشم صرف وہی شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ اس واقعے کے بعد (کچھ دن گزرے تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کئی ریشمی حلے آئے، آپ نے ایک حلہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا، ایک حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا اور ایک حلہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیا اور فرمایا: اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں کو دوپٹے بنا دو۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے حلے کو اٹھا کر لائے اور عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے یہ حلہ میرے پاس بھیجا ہے حالانکہ آپ نے کل ہی عطارد کے حلے کے متعلق فرمایا تھا جو آپ نے فرمایا تھا؟ آپ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس یہ حلہ اس لیے نہیں بھیجا کہ اسے تم خود پہنو، بلکہ میں نے تمہارے پاس یہ اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے کچھ (فائدہ) حاصل کرو۔ تو رہے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ تو وہ اپنا حلہ پہن کر آگئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو اس طرح دیکھا جس سے انہیں پتہ چل گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کا ایسا کرنا پسند نہیں آیا، انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ مجھے اس طرح کیوں دیکھ رہے ہیں؟ آپ ہی نے تو اسے میرے پاس بھیجا تھا۔ آپ نے فرمایا: میں نے تمہارے پاس اس لیے نہیں بھیجا تھا کہ تم خود اس کو پہن لو۔ بلکہ میں نے اس لیے اس حلے کو تمہارے پاس بھیجا تھا کہ تم اس کو پھاڑ کر اپنی عورتوں میں دوپٹے بانٹ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5403]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، قَالَ: فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استبرق (موٹے ریشم) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتا ہوا دیکھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے خرید لیجیے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کہا: پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا (لفظی ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ یا آپ نے (اس طرح) فرمایا تھا: اس کو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس لیے کہ) تم اس کو فروخت کر دو اور اس (کی قیمت) سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5404]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5404 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، قَالَ: فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استبرق (موٹے ریشم) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتا ہوا دیکھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے خرید لیجیے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کہا: پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا (لفظی ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ یا آپ نے (اس طرح) فرمایا تھا: اس کو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس لیے کہ) تم اس کو فروخت کر دو اور اس (کی قیمت) سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5404]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ
وحدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5405]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5405 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنِ شِهَابٍ
وحدثنا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5405]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوِ اشْتَرَيْتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے ابوبکر بن حفص نے سالم سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی (کے کندھوں) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا: اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر (بعد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا، کہا: میں نے عرض کی: آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سو فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5406]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5406 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ قَبَاءً مِنْ دِيبَاجٍ أَوْ حَرِيرٍ، فَقَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوِ اشْتَرَيْتَهُ، فَقَالَ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَأُهْدِيَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةٌ سِيَرَاءُ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ، قَالَ: قُلْتُ أَرْسَلْتَ بِهَا إِلَيَّ وَقَدْ سَمِعْتُكَ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ، قَالَ: " إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَسْتَمْتِعَ بِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے روایت کی، کہا: مجھے ابوبکر بن حفص نے سالم سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عطارد کے خاندان والوں میں سے ایک آدمی (کے کندھوں) پر دیباج یا ریشم کی ایک قبا دیکھی تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: کتنا اچھا ہو اگر آپ اس کو خرید لیں! آپ نے فرمایا: اس کو صرف وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر (بعد میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک ریشمی حلہ ہدیہ کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا، کہا: میں نے عرض کی: آپ نے وہ حلہ میرے پاس بھیج دیا ہے جبکہ میں اس کے متعلق آپ سے سن چکا ہوں، آپ نے اس کے بارے میں جو فرمایا تھا سو فرمایا تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا ہے کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5406]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوبکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے ایک آدمی (کے کندھوں) پر (بیچنے کے لیے ایک حلہ) دیکھا، جس طرح یحییٰ بن سعید کی حدیث ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لیے تمہارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم (خود) اسے پہنو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5407]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5407 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوبکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے ایک آدمی (کے کندھوں) پر (بیچنے کے لیے ایک حلہ) دیکھا، جس طرح یحییٰ بن سعید کی حدیث ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لیے تمہارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم (خود) اسے پہنو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5407]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال: قَالَ لِي: سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی، کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا، کہا: میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص (کے کندھے) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا، وہ اس (حلے) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ جبہ اس لیے تمہارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے (اسے بیچ کر) کچھ مال حاصل کر لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5408]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5408 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال: قَالَ لِي: سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی، کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا، کہا: میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص (کے کندھے) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا، وہ اس (حلے) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہ جبہ اس لیے تمہارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے (اسے بیچ کر) کچھ مال حاصل کر لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5408]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2069 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَبْدِ اللَّهِ ، أَسْمَاءُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ، قال: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا، فَقَالَتْ: هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ: هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، حَتَّى قُبِضَتْ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ (کیسان) سے روایت ہے، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں، دوسرے ارجوان (یعنی سرخ ڈھڈھاتا) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے)۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ حریر (ریشم) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر (ریشم) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ (جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لیے پلاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5409]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5409 صحیح مسلم
يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَبْدِ اللَّهِ ، أَسْمَاءُ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، وَكَانَ خَالَ وَلَدِ عَطَاءٍ، قال: أَرْسَلَتْنِي أَسْمَاءُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَتْ: بَلَغَنِي أَنَّكَ تُحَرِّمُ أَشْيَاءَ ثَلَاثَةً الْعَلَمَ فِي الثَّوْبِ، وَمِيثَرَةَ الْأُرْجُوَانِ، وَصَوْمَ رَجَبٍ كُلِّهِ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ : أَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنْ رَجَبٍ فَكَيْفَ بِمَنْ يَصُومُ الْأَبَدَ؟ وَأَمَّا مَا ذَكَرْتَ مِنَ الْعَلَمِ فِي الثَّوْبِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: سمعت رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، فَخِفْتُ أَنْ يَكُونَ الْعَلَمُ مِنْهُ، وَأَمَّا مِيثَرَةُ الْأُرْجُوَانِ فَهَذِهِ مِيثَرَةُ عَبْدِ اللَّهِ، فَإِذَا هِيَ أُرْجُوَانٌ، فَرَجَعْتُ إِلَى أَسْمَاءَ فَخَبَّرْتُهَا، فَقَالَتْ: هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةَ طَيَالِسَةٍ كِسْرَوَانِيَّةٍ لَهَا لِبْنَةُ دِيبَاجٍ، وَفَرْجَيْهَا مَكْفُوفَيْنِ بِالدِّيبَاجِ فَقَالَتْ: هَذِهِ كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، حَتَّى قُبِضَتْ، فَلَمَّا قُبِضَتْ قَبَضْتُهَا، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُهَا فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرْضَى يُسْتَشْفَى بِهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ (کیسان) سے روایت ہے، جو کہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما کا مولیٰ اور عطاء کے لڑکے کا ماموں تھا نے کہا کہ مجھے اسماء رضی اللہ عنہا نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بھیجا اور کہلایا کہ میں نے سنا ہے کہ تم تین چیزوں کو حرام کہتے ہو، ایک تو کپڑے کو جس میں ریشمی نقش ہوں، دوسرے ارجوان (یعنی سرخ ڈھڈھاتا) زین پوش کو اور تیسرے تمام رجب کے مہینے میں روزے رکھنے کو، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ رجب کے مہینے کے روزوں کو کون حرام کہے گا؟ جو شخص ہمیشہ روزہ رکھے گا (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہمیشہ روزہ علاوہ عیدین اور ایام تشریق کے رکھتے تھے اور ان کا مذہب یہی ہے کہ صوم دہر مکروہ نہیں ہے)۔ اور کپڑے کے ریشمی نقوش کا تو نے ذکر کیا ہے تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ حریر (ریشم) وہ پہنے گا جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ تو مجھے ڈر ہوا کہ کہیں نقشی کپڑا بھی حریر (ریشم) نہ ہو اور ارجوانی زین پوش، تو خود عبداللہ کا زین پوش ارجوانی ہے۔ یہ سب میں نے جا کر سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے کہا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ جبہ موجود ہے، پھر انہوں نے طیالسی کسروانی جبہ (جو ایران کے بادشاہ کسریٰ کی طرف منسوب تھا) نکالا جس کے گریبان پر ریشم لگا ہوا تھا اور دامن بھی ریشمی تھے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ جبہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی وفات تک ان کے پاس تھا۔ جب وہ فوت ہو گئیں تو یہ جبہ میں نے لے لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو پہنا کرتے تھے اب ہم اس کو دھو کر اس کا پانی بیماروں کو شفاء کے لیے پلاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5409]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2069 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ، يقول: أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: سنو! اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (یہ حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ریشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5410]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 5410 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ كَعْبٍ أَبِي ذِبْيَانَ ، قال: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ يَخْطُبُ، يقول: أَلَا لَا تُلْبِسُوا نِسَاءَكُمُ الْحَرِيرَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يقول: قال رسول اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْبَسُوا الْحَرِيرَ، فَإِنَّهُ مَنْ لَبِسَهُ فِي الدُّنْيَا لَمْ يَلْبَسْهُ فِي الْآخِرَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے خلیفہ بن کعب ابی زبیان سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ خطبہ دیتے ہوئے کہہ رہے تھے: سنو! اپنی عورتوں کو ریشم نہ پہناؤ کیونکہ میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو (یہ حدیث بیان کرتے ہوئے) سنا ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ریشم نہ پہنو، کیونکہ جس نے دنیا میں اسے پہنا وہ آخرت میں اس کو نہیں پہنے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5410]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة