مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حدثني مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قال: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، قال: حَدَّثَنِي يَحْيَي بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، قال: قَالَ لِي: سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ فِي الْإِسْتَبْرَقِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا غَلُظَ مِنَ الدِّيبَاجِ وَخَشُنَ مِنْهُ، فَقَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يقول: رَأَى عُمَرُ عَلَى رَجُلٍ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ، فَأَتَى بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: فَقَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتُصِيبَ بِهَا مَالًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن ابی اسحاق نے حدیث بیان کی، کہا: سالم بن عبداللہ نے مجھ سے استبرق کے متعلق دریافت کیا، کہا: میں نے کہا: وہ دیباج جو موٹا اور سخت ہو۔ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص (کے کندھے) پر استبرق کا ایک حلہ دیکھا، وہ اس (حلے) کو لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے، پھر انہوں نے ان سب کی حدیث کے مانند بیان کیا، البتہ اس میں یہ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ جبہ اس لیے تمہارے پاس بھیجا کہ تم اس کے ذریعے سے (اسے بیچ کر) کچھ مال حاصل کر لو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5408]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة