ابْنُ نُمَيْرٍ ، رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
وحدثني ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ حَفْصٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَأَى عَلَى رَجُلٍ مِنْ آلِ عُطَارِدٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: إِنَّمَا بَعَثْتُ بِهَا إِلَيْكَ لِتَنْتَفِعَ بِهَا وَلَمْ أَبْعَثْ بِهَا إِلَيْكَ لِتَلْبَسَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
روح نے کہا: ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابوبکر بن حفص نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آل عطارد کے ایک آدمی (کے کندھوں) پر (بیچنے کے لیے ایک حلہ) دیکھا، جس طرح یحییٰ بن سعید کی حدیث ہے، مگر انہوں نے یہ الفاظ کہے: ”میں نے اسے تمہارے پاس صرف اس لیے بھیجا تھا کہ تم اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس لیے تمہارے پاس نہیں بھیجا تھا کہ تم (خود) اسے پہنو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5407]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة