بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 5404 — باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔
کتب صحیح مسلم لباس اور زینت کے احکام باب: مردوں کے لیے ریشم وغیرہ پہننے کی حرمت کے بیان میں۔ حدیث 5404
حدیث نمبر: 5404 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَي ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قال: وَجَدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً مِنْ إِسْتَبْرَقٍ تُبَاعُ بِالسُّوقِ، فَأَخَذَهَا فَأَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ابْتَعْ هَذِهِ فَتَجَمَّلْ بِهَا لِلْعِيدِ وَلِلْوَفْدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ "، قَالَ: فَلَبِثَ عُمَرُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ، فَأَقْبَلَ بِهَا عُمَرُ حَتَّى أَتَى بِهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُلْتَ إِنَّمَا هَذِهِ لِبَاسُ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ أَوْ إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ، ثُمَّ أَرْسَلْتَ إِلَيَّ بِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَبِيعُهَا وَتُصِيبُ بِهَا حَاجَتَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استبرق (موٹے ریشم) کا ایک حلہ بازار میں فروخت ہوتا ہوا دیکھا، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسے خرید لیجیے اور عید اور وفود کی آمد پر اسے زیب تن فرمائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ صرف ایسے شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ کہا: پھر جب تک اللہ کو منظور تھا وقت گزرا (لفظی ترجمہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسی حالت میں رہے) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے پاس دیباج کا ایک جبہ بھیج دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کو لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فرمایا تھا: یہ اس شخص کا لباس ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ یا آپ نے (اس طرح) فرمایا تھا: اس کو وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ پھر آپ نے یہی میرے پاس بھیج دیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (اس لیے کہ) تم اس کو فروخت کر دو اور اس (کی قیمت) سے اپنی ضرورت پوری کر لو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب اللِّبَاسِ وَالزِّينَةِ/حدیث: 5404]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (5403) باب پر واپس اگلی حدیث (5405) →