بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1360 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَدَعَا لِأَهْلِهَا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز یعنی محمد دراوردی کے بیٹے نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے اپنے چچا عبداللہ بن زید عاصم رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے رہنے والوں کے لیے دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں نے اس کے صاع اور مد میں سے دگنی (برکت) کی دعا کی جتنی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3313]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3313 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَاصِمٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَدَعَا لِأَهْلِهَا، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ، كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَإِنِّي دَعَوْتُ فِي صَاعِهَا، وَمُدِّهَا بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ لِأَهْلِ مَكَّةَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز یعنی محمد دراوردی کے بیٹے نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے حدیث بیان کی، انہوں نے عباد بن تمیم سے، انہوں نے اپنے چچا عبداللہ بن زید عاصم رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے رہنے والوں کے لیے دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا اور میں نے اس کے صاع اور مد میں سے دگنی (برکت) کی دعا کی جتنی ابراہیم علیہ السلام نے اہل مکہ کے لیے کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3313]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1360 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْمَخْزُومِيُّ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حدثنا وُهَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ، فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، فَفِي رِوَايَتِهِمَا: مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز یعنی ابن مختار، سلیمان بن بلال اور وہیب (بن خالد باہلی) سب نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، وہیب کی حدیث دراوردی کی حدیث کی طرح ہے: اس سے دگنی (برکت) کی جتنی برکت کی ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔ جبکہ سلیمان بن بلال اور عبدالعزیز بن مختار دونوں کی روایت میں ہے: جتنی (برکت کی) ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3314]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3314 صحیح مسلم
أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، الْمَخْزُومِيُّ ، وُهَيْبٌ ، عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ الْمُخْتَارِ . ح وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ . ح وحدثناه إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمَخْزُومِيُّ ، حدثنا وُهَيْبٌ ، كُلُّهُمْ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى هُوَ الْمَازِنِيُّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَمَّا حَدِيثُ وُهَيْبٍ، فَكَرِوَايَةِ الدَّرَاوَرْدِيِّ: بِمِثْلَيْ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ، وَأَمَّا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، فَفِي رِوَايَتِهِمَا: مِثْلَ مَا دَعَا بِهِ إِبْرَاهِيمُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز یعنی ابن مختار، سلیمان بن بلال اور وہیب (بن خالد باہلی) سب نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، وہیب کی حدیث دراوردی کی حدیث کی طرح ہے: اس سے دگنی (برکت) کی جتنی برکت کی ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔ جبکہ سلیمان بن بلال اور عبدالعزیز بن مختار دونوں کی روایت میں ہے: جتنی (برکت کی) ابراہیم علیہ السلام نے دعا کی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3314]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1361 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، ابْنِ الْهَادِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم ٹھہرایا اور میں اس (شہر) کی دونوں سیاہ پتھر زمینوں کے درمیان میں واقع حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد مدینہ تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3315]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3315 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، ابْنِ الْهَادِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
وحدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا بَكْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، يُرِيدُ الْمَدِينَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن عمرو بن عثمان نے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم ٹھہرایا اور میں اس (شہر) کی دونوں سیاہ پتھر زمینوں کے درمیان میں واقع حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مراد مدینہ تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3315]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1361 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، وَذَلِكَ عَنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطاب کیا، اس نے مکہ کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا اور مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہ کیا، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اس کو مخاطب کیا اور کہا: کیا ہوا ہے؟ میں سن رہا ہوں کہ تم نے مکہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا لیکن مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے دونوں سیاہ پتھروں والی زمینوں کے درمیان میں واقع علاقے کو حرم قرار دیا ہے اور (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا) وہ فرمان خولانی چمڑے میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے میں تمہیں پڑھا دوں۔ اس پر مروان خاموش ہوا، پھر کہنے لگا: اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3316]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3316 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ ، رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ
وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعَنْبٍ ، حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عُتْبَةَ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ : أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ خَطَبَ النَّاسَ، فَذَكَرَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، فَنَادَاهُ رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، فقَالَ: " مَا لِي أَسْمَعُكَ ذَكَرْتَ مَكَّةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَلَمْ تَذْكُرِ الْمَدِينَةَ، وَأَهْلَهَا وَحُرْمَتَهَا، وَقَدْ حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا "، وَذَلِكَ عَنْدَنَا فِي أَدِيمٍ خَوْلَانِيٍّ إِنْ شِئْتَ أَقْرَأْتُكَهُ، قَالَ: فَسَكَتَ مَرْوَانُ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ بَعْضَ ذَلِكَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگوں کو خطاب کیا، اس نے مکہ کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا اور مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہ کیا، تو رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بلند آواز سے اس کو مخاطب کیا اور کہا: کیا ہوا ہے؟ میں سن رہا ہوں کہ تم نے مکہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا لیکن مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے دونوں سیاہ پتھروں والی زمینوں کے درمیان میں واقع علاقے کو حرم قرار دیا ہے اور (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا) وہ فرمان خولانی چمڑے میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ اگر تم چاہو تو اسے میں تمہیں پڑھا دوں۔ اس پر مروان خاموش ہوا، پھر کہنے لگا: اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3316]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1362 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَبِي أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو ان دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں، نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کے جانوروں کا شکار کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3317]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3317 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، أَبِي أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، كِلَاهُمَا عَنْ أَبِي أَحْمَدَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسْدِيُّ، حدثنا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي حَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا، لَا يُقْطَعُ عِضَاهُهَا، وَلَا يُصَادُ صَيْدُهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو ان دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں، نہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس کے شکار کے جانوروں کا شکار کیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3317]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1363 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا "، وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی (کہا:) مجھ سے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرام ٹھہراتا ہوں کہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں یا اس میں شکار کو مارا جائے۔ اور آپ نے فرمایا: اگر یہ لوگ جان لیں تو مدینہ ان کے لیے سب سے بہتر جگہ ہے۔ کوئی بھی آدمی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر نہیں جاتا مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص اس میں لے آتا ہے جو اس (جانے والے) سے بہتر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس کی تنگدستی اور مشقت پر ثابت قدم نہیں رہتا مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ ہوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3318]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3318 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِيهِ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ أَنْ يُقْطَعَ عِضَاهُهَا، أَوْ يُقْتَلَ صَيْدُهَا "، وَقَالَ: " الْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَهُمْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ، لَا يَدَعُهَا أَحَدٌ رَغْبَةً عَنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُ، وَلَا يَثْبُتُ أَحَدٌ عَلَى لَأْوَائِهَا وَجَهْدِهَا، إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَفِيعًا، أَوْ شَهِيدًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی (کہا:) مجھ سے عامر بن سعد نے اپنے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرام ٹھہراتا ہوں کہ اس کے کانٹے دار درخت کاٹے جائیں یا اس میں شکار کو مارا جائے۔ اور آپ نے فرمایا: اگر یہ لوگ جان لیں تو مدینہ ان کے لیے سب سے بہتر جگہ ہے۔ کوئی بھی آدمی اس سے بے رغبتی کرتے ہوئے اسے چھوڑ کر نہیں جاتا مگر اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ایسا شخص اس میں لے آتا ہے جو اس (جانے والے) سے بہتر ہوتا ہے اور کوئی شخص اس کی تنگدستی اور مشقت پر ثابت قدم نہیں رہتا مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یا گواہ ہوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3318]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1363 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان بن معاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں عثمان بن حکیم انصاری نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا:) اور کوئی شخص نہیں جو اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا مگر اللہ تعالیٰ اسے آگ میں سیسے کے پگھلنے یا پانی میں نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلا دے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3319]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3319 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، حدثنا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ الْأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ، ثُمَّ ذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ، وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا يُرِيدُ أَحَدٌ أَهْلَ الْمَدِينَةِ بِسُوءٍ، إِلَّا أَذَابَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ ذَوْبَ الرَّصَاصِ، أَوْ ذَوْبَ الْمِلْحِ فِي الْمَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مروان بن معاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں عثمان بن حکیم انصاری نے حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: (ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا:) اور کوئی شخص نہیں جو اہل مدینہ کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا مگر اللہ تعالیٰ اسے آگ میں سیسے کے پگھلنے یا پانی میں نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلا دے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3319]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1364 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، الْعَقَدِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدًا
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن محمد نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ حضرت سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) (مدینہ کے قریب) عقیق میں اپنے محل کی طرف روانہ ہوئے، انہوں نے ایک غلام کو دیکھا وہ درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے پتے چھاڑ رہا تھا، انہوں نے اس سے (اس کا لباس اور سازو سامان) سلب کر لیا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ (مدینہ) لوٹے تو غلام کے مالک ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے گفتگو کی کہ انہوں نے جو ان کے غلام سے (سامان لیا)، وہ واپس کر دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں کوئی ایسی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بطور غنیمت دی ہے اور انہوں نے وہ (سامان) انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3320]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3320 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، الْعَقَدِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدًا
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن محمد نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ حضرت سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) (مدینہ کے قریب) عقیق میں اپنے محل کی طرف روانہ ہوئے، انہوں نے ایک غلام کو دیکھا وہ درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے پتے چھاڑ رہا تھا، انہوں نے اس سے (اس کا لباس اور سازو سامان) سلب کر لیا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ (مدینہ) لوٹے تو غلام کے مالک ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے گفتگو کی کہ انہوں نے جو ان کے غلام سے (سامان لیا)، وہ واپس کر دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں کوئی ایسی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بطور غنیمت دی ہے اور انہوں نے وہ (سامان) انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3320]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1365 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے لیے اپنے (انصار کے) لڑکوں میں سے ایک لڑکا ڈھونڈو جو میری خدمت کیا کرے۔ ابوطلحہ مجھے سواری پر پیچھے بٹھائے ہوئے لے کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاں بھی قیام فرماتے، میں آپ کی خدمت کرتا۔ اور (اس) حدیث میں کہا: پھر آپ (لوٹ کر) آئے حتیٰ کہ جب کوہ احد آپ کے سامنے نمایاں ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر جب بلندی سے مدینہ پر نگاہ ڈالی تو فرمایا: اے اللہ! میں اس دونوں پہاڑوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3321]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3321 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: میرے لیے اپنے (انصار کے) لڑکوں میں سے ایک لڑکا ڈھونڈو جو میری خدمت کیا کرے۔ ابوطلحہ مجھے سواری پر پیچھے بٹھائے ہوئے لے کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاں بھی قیام فرماتے، میں آپ کی خدمت کرتا۔ اور (اس) حدیث میں کہا: پھر آپ (لوٹ کر) آئے حتیٰ کہ جب کوہ احد آپ کے سامنے نمایاں ہوا تو آپ نے فرمایا: یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ پھر جب بلندی سے مدینہ پر نگاہ ڈالی تو فرمایا: اے اللہ! میں اس دونوں پہاڑوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3321]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1365 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حدثنا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ مگر انہوں نے کہا: میں اس کی دونوں کالے سنگریزوں والی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3322]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3322 صحیح مسلم
سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحدثناه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا: حدثنا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یعقوب بن عبدالرحمٰن القاری نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ مگر انہوں نے کہا: میں اس کی دونوں کالے سنگریزوں والی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3322]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة