بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3320 — باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: مدینہ منورہ کی فضیلت اور اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت کی دعا اور اس کی حرمت اور اس کے شکار، اور درخت کاٹنے کی حرمت، اور اس کے حدود حرم کا بیان۔ حدیث 3320
حدیث نمبر: 3320 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، الْعَقَدِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، سَعْدًا
وحدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، جميعا عَنِ الْعَقَدِيِّ ، قَالَ عبدَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ : أَنَّ سَعْدًا رَكِبَ إِلَى قَصْرِهِ بِالْعَقِيقِ، فَوَجَدَ عَبْدًا يَقْطَعُ شَجَرًا أَوْ يَخْبِطُهُ فَسَلَبَهُ، فَلَمَّا رَجَعَ سَعْدٌ جَاءَهُ أَهْلُ الْعَبْدِ، فَكَلَّمُوهُ أَنْ يَرُدَّ عَلَى غُلَامِهِمْ أَوْ عَلَيْهِمْ مَا أَخَذَ مِنْ غُلَامِهِمْ، فقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ أَنْ أَرُدَّ شَيْئًا نَفَّلَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبَى أَنْ يَرُدَّ عَلَيْهِمْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن محمد نے عامر بن سعد سے روایت کی کہ حضرت سعد (بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) (مدینہ کے قریب) عقیق میں اپنے محل کی طرف روانہ ہوئے، انہوں نے ایک غلام کو دیکھا وہ درخت کاٹ رہا تھا یا اس کے پتے چھاڑ رہا تھا، انہوں نے اس سے (اس کا لباس اور سازو سامان) سلب کر لیا۔ جب حضرت سعد رضی اللہ عنہ (مدینہ) لوٹے تو غلام کے مالک ان کے پاس حاضر ہوئے اور ان سے گفتگو کی کہ انہوں نے جو ان کے غلام سے (سامان لیا)، وہ واپس کر دیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی پناہ کہ میں کوئی ایسی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بطور غنیمت دی ہے اور انہوں نے وہ (سامان) انہیں واپس کرنے سے انکار کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3320]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3319) باب پر واپس اگلی حدیث (3321) →