يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جَمِيعًا عَنْ إِسْمَاعِيل ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَبِي طَلْحَةَ: " الْتَمِسْ لِي غُلَامًا مِنْ غِلْمَانِكُمْ يَخْدُمُنِي "، فَخَرَجَ بِي أَبُو طَلْحَةَ يُرْدِفُنِي وَرَاءَهُ، فَكُنْتُ أَخْدُمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّمَا نَزَلَ، وقَالَ فِي الْحَدِيثِ: ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى إِذَا بَدَا لَهُ أُحُدٌ، قَالَ: " هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ، فَلَمَّا أَشْرَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ، قَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحَرِّمُ مَا بَيْنَ جَبَلَيْهَا مِثْلَ مَا حَرَّمَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مُدِّهِمْ وَصَاعِهِمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے خبر دی کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میرے لیے اپنے (انصار کے) لڑکوں میں سے ایک لڑکا ڈھونڈو جو میری خدمت کیا کرے۔“ ابوطلحہ مجھے سواری پر پیچھے بٹھائے ہوئے لے کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہاں بھی قیام فرماتے، میں آپ کی خدمت کرتا۔ اور (اس) حدیث میں کہا: پھر آپ (لوٹ کر) آئے حتیٰ کہ جب کوہ احد آپ کے سامنے نمایاں ہوا تو آپ نے فرمایا: ”یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔“ پھر جب بلندی سے مدینہ پر نگاہ ڈالی تو فرمایا: ”اے اللہ! میں اس دونوں پہاڑوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اے اللہ! ان (اہل مدینہ) کے لیے ان کے مد اور صاع میں برکت عطا فرما۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3321]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة