إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَبَاهُ
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي قَتَادَةَ ، أَنَّ أَبَاهُ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ جَلَبَةً، فَقَالَ: " مَا شَأْنُكُمْ "؟ قَالُوا: اسْتَعْجَلْنَا إِلَى الصَّلَاةِ، قَالَ: فَلَا تَفْعَلُوا، " إِذَا أَتَيْتُمُ الصَّلَاةَ، فَعَلَيْكُمُ السَّكِينَةُ، فَمَا أَدْرَكْتُمْ فَصَلُّوا، وَمَا سَبَقَكُمْ فَأَتِمُّوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاویہ بن سلام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی، کہا: عبداللہ بن ابی قتادہ نے مجھے خبر دی کہ ان کے والد نے انہیں بتایا، کہا: ہم (ایک بار) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو آپ نے (جلدی چلنے، دوڑ کر پہنچنے کی) ملی جلی آوازیں سنیں، آپ نے (نماز کے بعد) پوچھا: ”تمہیں کیا ہوا (تھا؟)“ لوگوں نے جواب دیا: ہم نے نماز کے لیے جلدی کی۔ آپ نے فرمایا: ”ایسے نہ کیا کرو، جب تم نماز کے لیے آؤ تو سکون و اطمینان محفوظ رکھو، (نماز کا حصہ) جو تمہیں مل جائے، پڑھ لو اور جو گزر جائے اسے پورا کر لو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1363]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة