بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہوتا تو میں ضرور کعبہ کو گراتا اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اساس پر استوار کرتا قریش نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا تھا میں (اصل تعمیر کے مطابق) اس کا پچھلا دروازہ بھی بناتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3240]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3240 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْكَعْبَةَ، وَلَجَعَلْتُهَا عَلَى أَسَاسِ إِبْرَاهِيمَ، فَإِنَّ قُرَيْشًا حِينَ بَنَتِ الْبَيْتَ اسْتَقْصَرَتْ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا خَلْفًا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہوتا تو میں ضرور کعبہ کو گراتا اور اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اساس پر استوار کرتا قریش نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا تھا میں (اصل تعمیر کے مطابق) اس کا پچھلا دروازہ بھی بناتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3240]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3241]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3241 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3241]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَائِشَةَ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ "، قَالَت: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْت "، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا۔ کہا میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں لوٹائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہوتا تو میں (ضرور ایسا) کرتا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی تھی تو میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حطیم کے قریبی دونوں ارکان کا استلام اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کیا (ہو، اصل وجہ یہ تھی) کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر پورا (تعمیر) نہیں کیا گیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3242]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3242 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، عَائِشَةَ
حدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ ، أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اقْتَصَرُوا عَنْ قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ "، قَالَت: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَفَعَلْت "، فقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: لَئِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أُرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ، إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّمْ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے نہیں دیکھا تمہاری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کر دیا۔ کہا میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا آپ اسے دوبارہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر نہیں لوٹائیں گے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہوتا تو میں (ضرور ایسا) کرتا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی تھی تو میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حطیم کے قریبی دونوں ارکان کا استلام اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کیا (ہو، اصل وجہ یہ تھی) کہ بیت اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر پورا (تعمیر) نہیں کیا گیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3242]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَخْرَمَةَ ، هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، أَبِيهِ ، نَافِعًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَت: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، أَوَ قَالَ: بِكُفْرٍ، لَأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ، وَلَأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنا رہے تھے انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم جاہلیت۔۔۔ یا فرمایا زمانہ کفر۔۔۔ سے ابھی ابھی نہ نکلی ہوتی تو میں ضرور کعبہ کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا اور حجر (حطیم) کو کعبہ میں شامل کر دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3243 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَخْرَمَةَ ، هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، أَبِيهِ ، نَافِعًا ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ مَخْرَمَةَ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حدثنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي قُحَافَةَ ، يُحَدِّثُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَت: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ، أَوَ قَالَ: بِكُفْرٍ، لَأَنْفَقْتُ كَنْزَ الْكَعْبَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَجَعَلْتُ بَابَهَا بِالْأَرْضِ، وَلَأَدْخَلْتُ فِيهَا مِنَ الْحِجْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام نافع کہتے ہیں میں نے حضرت عبداللہ بن محمد بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث سنا رہے تھے انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا: اگر تمہاری قوم جاہلیت۔۔۔ یا فرمایا زمانہ کفر۔۔۔ سے ابھی ابھی نہ نکلی ہوتی تو میں ضرور کعبہ کے خزانے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیتا اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا اور حجر (حطیم) کو کعبہ میں شامل کر دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، ابْنُ مَهْدِيٍّ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي يَعْنِي عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ: بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید یعنی ابن بیناء سے روایت ہے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے۔ مجھ سے میری خالہ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا شرک کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا تو میں ضرور کعبہ کو گراتا اس (کے دروازے) کو زمین کے ساتھ لگا دیتا اور میں اس کے دو دروازے شرقی دروازہ اور دوسرا غربی دروازہ بناتا اور حجر (حطیم) اسے چھ ہاتھ (کا حصہ) اس میں شامل کر دیتا۔ بلاشبہ قریش نے جب کعبہ تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3244 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، ابْنُ مَهْدِيٍّ ، سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنِي ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حدثنا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ، عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ مِينَاءَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي خَالَتِي يَعْنِي عَائِشَةَ ، قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُو عَهْدٍ بِشِرْكٍ، لَهَدَمْتُ الْكَعْبَةَ، فَأَلْزَقْتُهَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ: بَابًا شَرْقِيًّا، وَبَابًا غَرْبِيًّا، وَزِدْتُ فِيهَا سِتَّةَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قُرَيْشًا اقْتَصَرَتْهَا حَيْثُ بَنَتِ الْكَعْبَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید یعنی ابن بیناء سے روایت ہے کہا میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے۔ مجھ سے میری خالہ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! اگر تمہاری قوم کا شرک کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا تو میں ضرور کعبہ کو گراتا اس (کے دروازے) کو زمین کے ساتھ لگا دیتا اور میں اس کے دو دروازے شرقی دروازہ اور دوسرا غربی دروازہ بناتا اور حجر (حطیم) اسے چھ ہاتھ (کا حصہ) اس میں شامل کر دیتا۔ بلاشبہ قریش نے جب کعبہ تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، ابْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حدثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حدثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أَوْ يُحَرِّبَهُمْ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا، ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا، أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ، إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا، فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عَنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ "، قَالَ: فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ، قَالَ: فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ، وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء سے روایت ہے انہوں نے کہا یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہل شام نے (مکہ پر) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے (اسی حالت پر) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے موسم میں لوگ (مکہ) آنے لگے وہ چاہتے تھے کہ انہیں ہمت دلائیں۔۔۔ یا اہل شام کے خلاف جنگ پر ابھاریں۔۔۔ جب لوگ آئے تو انہوں نے کہا: اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر (از سر نو) اس کی عمارت بنا دوں یا اس کا جو حصہ بوسیدہ ہو چکا ہے صرف اس کی مرمت کرا دوں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میرے سامنے ایک رائے واضح ہوئی ہے میری رائے یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ کمزور ہو گیا ہے آپ اس کی مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو (اسی طرح باقی) رہنے دیں جس پر لوگ اسلام لائے اور ان پتھروں کو (باقی چھوڑ دیں) جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت ہوئی، اس پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جائے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اسے نیا (نہ) بنا لے تو تمہارے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا۔ جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے اپنی رائے پختہ کر لی کہ اسے گرا دیں تو لوگ (اس ڈر سے) اس سے بچنے لگے کہ جو شخص اس (عمارت) پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کوئی آفت نازل ہو جائے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرا دیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے (گرانے لگے) حتیٰ کہ اسے زمین تک پہنچا دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے چند (عارضی) ستون بنائے اور پردے ان پر لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں جو اس کی تعمیر (مکمل کرنے) میں میرا معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ (زمین) اس میں ضرور شامل کرتا اور اس کا ایک (ایسا) دروازہ بناتا جس سے لوگ اندر داخل ہوتے اور ایک دروازہ (ایسا بناتا) جس سے باہر نکلتے۔ (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) کہا آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کر سکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں (عطاء نے) کہا تو انہوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے (کھدائی کی) حتیٰ کہ انہوں نے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی) بنیاد کو ظاہر کر دیا لوگوں نے بھی اسے دیکھا اس کے بعد انہوں نے اس پر عمارت بنائی کعبہ کا طول (اونچائی) اٹھارہ ہاتھ تھی (یہ اس طرح ہوئی کہ) جب انہوں نے (حطیم کی طرف سے) اس میں اضافہ کر دیا تو (پہلی اونچائی) کم محسوس ہوئی چنانچہ انہوں نے اس کی اونچائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر داخلہ ہوتا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جاتا تھا جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو اطلاع دیتے ہوئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعمیر اس (ابراہیمی) بنیادوں پر استوار کی جسے اہل مکہ کے معتبر (عدول) لوگوں نے (خود) دیکھا عبدالملک نے اسے لکھا۔ ہمارا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے رد و بدل سے کوئی تعلق نہیں البتہ انہوں نے اس کی اونچائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے برقرار رہنے دو اور جو انہوں نے حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے اسے (ختم کر کے) اس کی سابقہ بنیاد پر لوٹا دو اور اس دروازے کو بند کر دو جو انہوں نے کھولا ہے چنانچہ اس نے اسے گرا دیا اس کی (پچھلی) بنیاد پر لوٹا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3245]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3245 صحیح مسلم
هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَطَاءٍ ، ابْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حدثنا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ ، حدثنا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ: لَمَّا احْتَرَقَ الْبَيْتُ زَمَنَ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ حِينَ غَزَاهَا أَهْلُ الشَّامِ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ تَرَكَهُ ابْنُ الزُّبَيْرِ حَتَّى قَدِمَ النَّاسُ الْمَوْسِمَ يُرِيدُ أَنْ يُجَرِّئَهُمْ أَوْ يُحَرِّبَهُمْ عَلَى أَهْلِ الشَّامِ، فَلَمَّا صَدَرَ النَّاسُ، قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَشِيرُوا عَلَيَّ فِي الْكَعْبَةِ أَنْقُضُهَا، ثُمَّ أَبْنِي بِنَاءَهَا، أَوْ أُصْلِحُ مَا وَهَى مِنْهَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَإِنِّي قَدْ فُرِقَ لِي رَأْيٌ فِيهَا أَرَى أَنْ تُصْلِحَ مَا وَهَى مِنْهَا وَتَدَعَ بَيْتًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ وَأَحْجَارًا أَسْلَمَ النَّاسُ عَلَيْهَا وَبُعِثَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ: لَوْ كَانَ أَحَدُكُمُ احْتَرَقَ بَيْتُهُ مَا رَضِيَ حَتَّى يُجِدَّهُ، فَكَيْفَ بَيْتُ رَبِّكُمْ، إِنِّي مُسْتَخِيرٌ رَبِّي ثَلَاثًا، ثُمَّ عَازِمٌ عَلَى أَمْرِي، فَلَمَّا مَضَى الثَّلَاثُ أَجْمَعَ رَأْيَهُ عَلَى أَنْ يَنْقُضَهَا، فَتَحَامَاهُ النَّاسُ أَنْ يَنْزِلَ بِأَوَّلِ النَّاسِ يَصْعَدُ فِيهِ أَمْرٌ مِنَ السَّمَاءِ حَتَّى صَعِدَهُ رَجُلٌ، فَأَلْقَى مِنْهُ حِجَارَةً، فَلَمَّا لَمْ يَرَهُ النَّاسُ أَصَابَهُ شَيْءٌ تَتَابَعُوا، فَنَقَضُوهُ حَتَّى بَلَغُوا بِهِ الْأَرْضَ، فَجَعَلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ أَعْمِدَةً فَسَتَّرَ عَلَيْهَا السُّتُورَ حَتَّى ارْتَفَعَ بِنَاؤُهُ، وَقَالَ ابْنُ الزُّبَيْرِ : إِنِّي سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَوْلَا أَنَّ النَّاسَ حَدِيثٌ عَهْدُهُمْ بِكُفْرٍ وَلَيْسَ عَنْدِي مِنَ النَّفَقَةِ مَا يُقَوِّي عَلَى بِنَائِهِ، لَكُنْتُ أَدْخَلْتُ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ خَمْسَ أَذْرُعٍ، وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابًا يَدْخُلُ النَّاسُ مِنْهُ، وَبَابًا يَخْرُجُونَ مِنْهُ "، قَالَ: فَأَنَا الْيَوْمَ أَجِدُ مَا أُنْفِقُ وَلَسْتُ أَخَافُ النَّاسَ، قَالَ: فَزَادَ فِيهِ خَمْسَ أَذْرُعٍ مِنَ الْحِجْرِ حَتَّى أَبْدَى أُسًّا نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، فَبَنَى عَلَيْهِ الْبِنَاءَ وَكَانَ طُولُ الْكَعْبَةِ ثَمَانِيَ عَشْرَةَ ذِرَاعًا، فَلَمَّا زَادَ فِيهِ اسْتَقْصَرَهُ، فَزَادَ فِي طُولِهِ عَشْرَ أَذْرُعٍ، وَجَعَلَ لَهُ بَابَيْنِ أَحَدُهُمَا يُدْخَلُ مِنْهُ، وَالْآخَرُ يُخْرَجُ مِنْهُ، فَلَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ، كَتَبَ الْحَجَّاجُ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، يُخْبِرُهُ بِذَلِكَ، وَيُخْبِرُهُ أَنَّ ابْنَ الزُّبَيْرِ قَدْ وَضَعَ الْبِنَاءَ عَلَى أُسٍّ نَظَرَ إِلَيْهِ الْعُدُولُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَبْدُ الْمَلِكِ إِنَّا لَسْنَا مِنْ تَلْطِيخِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فِي شَيْءٍ، أَمَّا مَا زَادَ فِي طُولِهِ فَأَقِرَّهُ، وَأَمَّا مَا زَادَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ فَرُدَّهُ إِلَى بِنَائِهِ، وَسُدَّ الْبَابَ الَّذِي فَتَحَهُ فَنَقَضَهُ، وَأَعَادَهُ إِلَى بِنَائِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء سے روایت ہے انہوں نے کہا یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہل شام نے (مکہ پر) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے (اسی حالت پر) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے موسم میں لوگ (مکہ) آنے لگے وہ چاہتے تھے کہ انہیں ہمت دلائیں۔۔۔ یا اہل شام کے خلاف جنگ پر ابھاریں۔۔۔ جب لوگ آئے تو انہوں نے کہا: اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر (از سر نو) اس کی عمارت بنا دوں یا اس کا جو حصہ بوسیدہ ہو چکا ہے صرف اس کی مرمت کرا دوں؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا میرے سامنے ایک رائے واضح ہوئی ہے میری رائے یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ کمزور ہو گیا ہے آپ اس کی مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو (اسی طرح باقی) رہنے دیں جس پر لوگ اسلام لائے اور ان پتھروں کو (باقی چھوڑ دیں) جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت ہوئی، اس پر حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جائے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہوتا جب تک کہ اسے نیا (نہ) بنا لے تو تمہارے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا۔ جب تین دن گزر گئے تو انہوں نے اپنی رائے پختہ کر لی کہ اسے گرا دیں تو لوگ (اس ڈر سے) اس سے بچنے لگے کہ جو شخص اس (عمارت) پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کوئی آفت نازل ہو جائے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرا دیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے (گرانے لگے) حتیٰ کہ اسے زمین تک پہنچا دیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے چند (عارضی) ستون بنائے اور پردے ان پر لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ کہتے سنا بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں جو اس کی تعمیر (مکمل کرنے) میں میرا معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ (زمین) اس میں ضرور شامل کرتا اور اس کا ایک (ایسا) دروازہ بناتا جس سے لوگ اندر داخل ہوتے اور ایک دروازہ (ایسا بناتا) جس سے باہر نکلتے۔ (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) کہا آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کر سکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں (عطاء نے) کہا تو انہوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے (کھدائی کی) حتیٰ کہ انہوں نے (حضرت ابراہیم علیہ السلام کی) بنیاد کو ظاہر کر دیا لوگوں نے بھی اسے دیکھا اس کے بعد انہوں نے اس پر عمارت بنائی کعبہ کا طول (اونچائی) اٹھارہ ہاتھ تھی (یہ اس طرح ہوئی کہ) جب انہوں نے (حطیم کی طرف سے) اس میں اضافہ کر دیا تو (پہلی اونچائی) کم محسوس ہوئی چنانچہ انہوں نے اس کی اونچائی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر داخلہ ہوتا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جاتا تھا جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ قتل کر دیے گئے تو حجاج نے عبدالملک بن مروان کو اطلاع دیتے ہوئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے اس کی تعمیر اس (ابراہیمی) بنیادوں پر استوار کی جسے اہل مکہ کے معتبر (عدول) لوگوں نے (خود) دیکھا عبدالملک نے اسے لکھا۔ ہمارا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے رد و بدل سے کوئی تعلق نہیں البتہ انہوں نے اس کی اونچائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے برقرار رہنے دو اور جو انہوں نے حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے اسے (ختم کر کے) اس کی سابقہ بنیاد پر لوٹا دو اور اس دروازے کو بند کر دو جو انہوں نے کھولا ہے چنانچہ اس نے اسے گرا دیا اس کی (پچھلی) بنیاد پر لوٹا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3245]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَائِشَةَ ، الْحَارِثُ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، يحدثان: عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَفَدَ الْحَارِثُ بن عبد الله، على عبد الملك بن مروان، في خلافته، فقال عبد الملك: ما أظن أبا خبيب يعني ابن الزبير، سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ : بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ "، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟ "، قَالَت: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ "، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن عبید بن عمیر اور ولید بن عطاء سے سنا وہ دونوں حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے حدیث بیان کر رہے تھے عبداللہ بن عبید نے کہا حارث بن عبداللہ۔ عبدالملک بن مروان کی خلافت کے دوران میں اس کے پاس آئے عبدالملک نے کہا: میرا خیال نہیں کہ ابوخبیب یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو سننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے سنا ہو۔ حارث نے کہا: کیوں نہیں! میں نے خود ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے سنا ہے اس نے کہا: تم نے اس سے سنا وہ کیا کہتی تھیں؟ کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تمہاری قوم نے (اللہ کے گھر کی عمارت میں کمی کر دی اور اگر ان کا زمانہ شرک قریب کا نہ ہوتا تو جو انہوں نے چھوڑا تھا میں اسے دوبارہ بناتا اور تمہاری قوم کا اگر میرے بعد اسے دوبارہ بنانے کا خیال ہو تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں انہوں نے اس میں سے کیا چھوڑا تھا۔ پھر آپ نے انہیں سات ہاتھ کے قریب جگہ دکھائی۔ یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور میں زمین سے لگے ہوئے اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔ اور کیا تو جانتی ہو تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو اونچا کیوں کیا؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا میں نے عرض کی نہیں آپ نے فرمایا: خود کو اونچا دکھانے کے لیے تاکہ اس (گھر) میں صرف وہی داخل ہو جسے وہ چاہیں جب کوئی آدمی خود اس میں داخل ہونا چاہتا تو وہ اسے (سیڑھیاں) چڑھنے دیتے حتیٰ کہ جب وہ داخل ہونے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جاتا۔ عبدالملک نے حارث سے کہا: تم نے خود انہیں یہ کہتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں! کہا: تو اس نے گھڑی بھر اپنی چھڑی سے زمین کو کریدا، پھر کہا: کاش! میں انہیں (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو) اور جس کام کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائی اسے چھوڑ دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3246]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3246 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَائِشَةَ ، الْحَارِثُ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، يحدثان: عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَفَدَ الْحَارِثُ بن عبد الله، على عبد الملك بن مروان، في خلافته، فقال عبد الملك: ما أظن أبا خبيب يعني ابن الزبير، سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ : بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ "، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟ "، قَالَت: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ "، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن عبید بن عمیر اور ولید بن عطاء سے سنا وہ دونوں حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے حدیث بیان کر رہے تھے عبداللہ بن عبید نے کہا حارث بن عبداللہ۔ عبدالملک بن مروان کی خلافت کے دوران میں اس کے پاس آئے عبدالملک نے کہا: میرا خیال نہیں کہ ابوخبیب یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو سننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے سنا ہو۔ حارث نے کہا: کیوں نہیں! میں نے خود ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے سنا ہے اس نے کہا: تم نے اس سے سنا وہ کیا کہتی تھیں؟ کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تمہاری قوم نے (اللہ کے گھر کی عمارت میں کمی کر دی اور اگر ان کا زمانہ شرک قریب کا نہ ہوتا تو جو انہوں نے چھوڑا تھا میں اسے دوبارہ بناتا اور تمہاری قوم کا اگر میرے بعد اسے دوبارہ بنانے کا خیال ہو تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں انہوں نے اس میں سے کیا چھوڑا تھا۔ پھر آپ نے انہیں سات ہاتھ کے قریب جگہ دکھائی۔ یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور میں زمین سے لگے ہوئے اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔ اور کیا تو جانتی ہو تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو اونچا کیوں کیا؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا میں نے عرض کی نہیں آپ نے فرمایا: خود کو اونچا دکھانے کے لیے تاکہ اس (گھر) میں صرف وہی داخل ہو جسے وہ چاہیں جب کوئی آدمی خود اس میں داخل ہونا چاہتا تو وہ اسے (سیڑھیاں) چڑھنے دیتے حتیٰ کہ جب وہ داخل ہونے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جاتا۔ عبدالملک نے حارث سے کہا: تم نے خود انہیں یہ کہتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں! کہا: تو اس نے گھڑی بھر اپنی چھڑی سے زمین کو کریدا، پھر کہا: کاش! میں انہیں (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو) اور جس کام کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائی اسے چھوڑ دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3246]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حدثنا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعاصم اور عبدالرزاق دونوں نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (محمد) بن بکر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3247]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3247 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، أَبُو عَاصِمٍ ، عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنِ جُرَيْجٍ
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ ، حدثنا أَبُو عَاصِمٍ . ح وحدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ بَكْرٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعاصم اور عبدالرزاق دونوں نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (محمد) بن بکر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3247]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1333 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، أَبِي قَزَعَةَ ، ابْنَ الزُّبَيْرِ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حدثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ "، فقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا، قَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان جب بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا تو اس نے کہا: اللہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ہلاک کرے کہ وہ ام المؤمنین پر جھوٹ بولتا ہے وہ کہتا ہے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تمہاری قوم کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو گراتا حتیٰ کہ اس میں حطیم میں سے (کچھ حصہ) بڑھا دیتا بلاشبہ تمہاری قوم نے اس کی عمارت کو کم کر دیا ہے۔ اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین ایسا نہ کہیے۔ میں نے خود ام المؤمنین سے سنا ہے وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں۔ (عبدالملک نے) کہا اگر میں نے یہ بات اسے گرا نے سے پہلے سن لی ہوتی تو میں اسے اسی طرح چھوڑ دیتا جس طرح حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بنایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3248]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3248 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، أَبِي قَزَعَةَ ، ابْنَ الزُّبَيْرِ ، أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ ، حدثنا حَاتِمُ بْنُ أَبِي صَغِيرَةَ ، عَنْ أَبِي قَزَعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ مَرْوَانَ بَيْنَمَا هُوَ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللَّهُ ابْنَ الزُّبَيْرِ حَيْثُ يَكْذِبُ عَلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا عَائِشَةُ، لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ لَنَقَضْتُ الْبَيْتَ حَتَّى أَزِيدَ فِيهِ مِنَ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَكِ قَصَّرُوا فِي الْبِنَاءِ "، فقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ: لَا تَقُلْ هَذَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ تُحَدِّثُ هَذَا، قَالَ: لَوْ كُنْتُ سَمِعْتُهُ قَبْلَ أَنْ أَهْدِمَهُ لَتَرَكْتُهُ عَلَى مَا بَنَى ابْنُ الزُّبَيْرِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوقزعہ سے روایت ہے کہ عبدالملک بن مروان جب بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا تو اس نے کہا: اللہ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ہلاک کرے کہ وہ ام المؤمنین پر جھوٹ بولتا ہے وہ کہتا ہے میں نے انہیں یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے عائشہ! تمہاری قوم کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا تو میں بیت اللہ کو گراتا حتیٰ کہ اس میں حطیم میں سے (کچھ حصہ) بڑھا دیتا بلاشبہ تمہاری قوم نے اس کی عمارت کو کم کر دیا ہے۔ اس پر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین ایسا نہ کہیے۔ میں نے خود ام المؤمنین سے سنا ہے وہ یہ حدیث بیان کر رہی تھیں۔ (عبدالملک نے) کہا اگر میں نے یہ بات اسے گرا نے سے پہلے سن لی ہوتی تو میں اسے اسی طرح چھوڑ دیتا جس طرح حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بنایا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3248]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة