بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 3246 — باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: کعبہ کی عمارت توڑنا اور اس کی تعمیر کا بیان۔ حدیث 3246
حدیث نمبر: 3246 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَائِشَةَ ، الْحَارِثُ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَالْوَلِيدَ بْنَ عَطَاءٍ ، يحدثان: عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَفَدَ الْحَارِثُ بن عبد الله، على عبد الملك بن مروان، في خلافته، فقال عبد الملك: ما أظن أبا خبيب يعني ابن الزبير، سَمِعَ مِنْ عَائِشَةَ مَا كَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا، قَالَ الْحَارِثُ : بَلَى، أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْهَا، قَالَ: سَمِعْتَهَا تَقُولُ مَاذَا؟ قَالَ: قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ قَوْمَكِ اسْتَقْصَرُوا مِنْ بُنْيَانِ الْبَيْتِ، وَلَوْلَا حَدَاثَةُ عَهْدِهِمْ بِالشِّرْكِ أَعَدْتُ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَإِنْ بَدَا لِقَوْمِكِ مِنْ بَعْدِي أَنْ يَبْنُوهُ فَهَلُمِّي لِأُرِيَكِ مَا تَرَكُوا مِنْهُ، فَأَرَاهَا قَرِيبًا مِنْ سَبْعَةِ أَذْرُعٍ "، هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَزَادَ عَلَيْهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَطَاءٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَلَجَعَلْتُ لَهَا بَابَيْنِ مَوْضُوعَيْنِ فِي الْأَرْضِ شَرْقِيًّا وَغَرْبِيًّا، وَهَلْ تَدْرِينَ لِمَ كَانَ قَوْمُكِ رَفَعُوا بَابَهَا؟ "، قَالَت: قُلْتُ: لَا، قَالَ: " تَعَزُّزًا أَنْ لَا يَدْخُلَهَا إِلَّا مَنْ أَرَادُوا، فَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَهَا يَدَعُونَهُ يَرْتَقِي حَتَّى إِذَا كَادَ أَنْ يَدْخُلَ دَفَعُوهُ فَسَقَطَ "، قَالَ: عَبْدُ الْمَلِكِ لِلْحَارِثِ: أَنْتَ سَمِعْتَهَا تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَنَكَتَ سَاعَةً بِعَصَاهُ، ثُمَّ قَالَ: وَدِدْتُ أَنِّي تَرَكْتُهُ وَمَا تَحَمَّلَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی (کہا) ہمیں ابن جریج نے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن عبید بن عمیر اور ولید بن عطاء سے سنا وہ دونوں حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ سے حدیث بیان کر رہے تھے عبداللہ بن عبید نے کہا حارث بن عبداللہ۔ عبدالملک بن مروان کی خلافت کے دوران میں اس کے پاس آئے عبدالملک نے کہا: میرا خیال نہیں کہ ابوخبیب یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے جو سننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے سنا ہو۔ حارث نے کہا: کیوں نہیں! میں نے خود ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) سے سنا ہے اس نے کہا: تم نے اس سے سنا وہ کیا کہتی تھیں؟ کہا: انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ تمہاری قوم نے (اللہ کے گھر کی عمارت میں کمی کر دی اور اگر ان کا زمانہ شرک قریب کا نہ ہوتا تو جو انہوں نے چھوڑا تھا میں اسے دوبارہ بناتا اور تمہاری قوم کا اگر میرے بعد اسے دوبارہ بنانے کا خیال ہو تو آؤ میں تمہیں دکھاؤں انہوں نے اس میں سے کیا چھوڑا تھا۔ پھر آپ نے انہیں سات ہاتھ کے قریب جگہ دکھائی۔ یہ عبداللہ بن عبید کی حدیث ہے ولید بن عطاء نے اس میں یہ اضافہ کیا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اور میں زمین سے لگے ہوئے اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔ اور کیا تو جانتی ہو تمہاری قوم نے اس کے دروازے کو اونچا کیوں کیا؟ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا میں نے عرض کی نہیں آپ نے فرمایا: خود کو اونچا دکھانے کے لیے تاکہ اس (گھر) میں صرف وہی داخل ہو جسے وہ چاہیں جب کوئی آدمی خود اس میں داخل ہونا چاہتا تو وہ اسے (سیڑھیاں) چڑھنے دیتے حتیٰ کہ جب وہ داخل ہونے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جاتا۔ عبدالملک نے حارث سے کہا: تم نے خود انہیں یہ کہتے ہوئے سنا؟ انہوں نے کہا: ہاں! کہا: تو اس نے گھڑی بھر اپنی چھڑی سے زمین کو کریدا، پھر کہا: کاش! میں انہیں (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو) اور جس کام کی ذمہ داری انہوں نے اٹھائی اسے چھوڑ دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3246]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (3245) باب پر واپس اگلی حدیث (3247) →