بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: حاجی کا قربانی کے دن جمرہ عقبہ کی رمی تک تلبیہ پڑھتے رہنے کا استحباب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 1280 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، كُرَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ، أَنَاخَ فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ ". (حديث موقوف) قَالَ قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي، حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: عرفات سے (واپسی کے وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں طرف والی اس گھاٹی پر پہنچے جو مزدلفہ سے ذرا پہلے ہے آپ نے اپنا اونٹ بٹھایا پیشاب سے فارغ ہوئے پھر (واپس) تشریف لائے تو میں نے آپ (کے ہاتھوں) پر وضو کا پانی ڈالا۔ آپ نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ آپ نے فرمایا: نماز آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز ادا کی پھر (اگلے دن) مزدلفہ کی صبح حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہوئے۔ کریب نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ (عقبہ) پہنچنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3087]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3087 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل ، يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، كُرَيْبٍ ، أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، كُرَيْبٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لَهُ: قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: رَدِفْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عَرَفَاتٍ، فَلَمَّا بَلَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشِّعْبَ الْأَيْسَرَ الَّذِي دُونَ الْمُزْدَلِفَةِ، أَنَاخَ فَبَالَ، ثُمَّ جَاءَ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ الْوَضُوءَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا، ثُمَّ قُلْتُ: الصَّلَاةَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ "، فَرَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ فَصَلَّى، ثُمَّ رَدِفَ الْفَضْلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ ". (حديث موقوف) قَالَ قَالَ كُرَيْبٌ : فَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي، حَتَّى بَلَغَ الْجَمْرَةَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام کریب نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: عرفات سے (واپسی کے وقت) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (اونٹنی پر) سوار ہوا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں طرف والی اس گھاٹی پر پہنچے جو مزدلفہ سے ذرا پہلے ہے آپ نے اپنا اونٹ بٹھایا پیشاب سے فارغ ہوئے پھر (واپس) تشریف لائے تو میں نے آپ (کے ہاتھوں) پر وضو کا پانی ڈالا۔ آپ نے ہلکا وضو کیا پھر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! نماز؟ آپ نے فرمایا: نماز آگے (مزدلفہ میں) ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سوار ہوئے حتیٰ کہ مزدلفہ تشریف لائے اور نماز ادا کی پھر (اگلے دن) مزدلفہ کی صبح حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اونٹنی پر سوار ہوئے۔ کریب نے کہا: مجھے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ (عقبہ) پہنچنے تک تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3087]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1281 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، ابْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كلاهما عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے خبر دی (کہا:) مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار کیا۔ (پھر) کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3088]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3088 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، ابْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، كلاهما عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَ الْفَضْلَ مِنْ جَمْعٍ، قَالَ: فَأَخْبَرَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنَّ الْفَضْلَ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمْ يَزَلْ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے خبر دی (کہا:) مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ سے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار کیا۔ (پھر) کہا: مجھے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3088]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1282 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ، حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ "، وَقَالَ: " لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ابومعبدنے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انہیں تلقین کی: سکون سے (چلو) اور آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روکے ہوئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں داخل ہوئے۔۔۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے۔۔۔ آپ نے فرمایا: تم (دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر) ماری جانے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کو رمی کی جائے گی۔ (حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3089]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3089 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَبِي مَعْبَدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنِي اللَّيْثُ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ وَكَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: فِي عَشِيَّةِ عَرَفَةَ وَغَدَاةِ جَمْعٍ لِلنَّاسِ، حِينَ دَفَعُوا عَلَيْكُمْ بِالسَّكِينَةِ وَهُوَ كَافٌّ نَاقَتَهُ، حَتَّى دَخَلَ مُحَسِّرًا وَهُوَ مِنْ مِنًى، قَالَ: " عَلَيْكُمْ بِحَصَى الْخَذْفِ الَّذِي يُرْمَى بِهِ الْجَمْرَةُ "، وَقَالَ: " لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام ابومعبدنے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے (ساتھ اونٹنی پر) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انہیں تلقین کی: سکون سے (چلو) اور آپ اپنی اونٹنی کو (تیز چلنے سے) روکے ہوئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں داخل ہوئے۔۔۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے۔۔۔ آپ نے فرمایا: تم (دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر) ماری جانے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کو رمی کی جائے گی۔ (حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ نے) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3089]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1282 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج سے روایت ہے: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے (اپنی) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ سے (اس طرح) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان (اپنی انگلیوں سے) کنکر پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3090]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3090 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ
وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ: وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ: وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج سے روایت ہے: (کہا:) مجھے ابوزبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، انہوں نے (اپنی) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہاتھ سے (اس طرح) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان (اپنی انگلیوں سے) کنکر پھینکتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3090]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1283 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، حُصَيْنٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَنَحْنُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحوص نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب ہم مزدلفہ میں تھے۔ کہا: میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی، وہ اس مقام پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3091]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3091 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو الْأَحْوَصِ ، حُصَيْنٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَنَحْنُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَقَامِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحوص نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب ہم مزدلفہ میں تھے۔ کہا: میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی، وہ اس مقام پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3091]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1283 صحیح مسلم
سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ: هَذَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ سے لوٹتے وقت تلبیہ کہا: تو کہا گیا: کیا یہ اعرابی (بدو) ہیں؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3092]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3092 صحیح مسلم
سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ: هَذَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ سے لوٹتے وقت تلبیہ کہا: تو کہا گیا: کیا یہ اعرابی (بدو) ہیں؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3092]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1283 صحیح مسلم
حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، حُصَيْنٍ
وَحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں حصین سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3093]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3093 صحیح مسلم
حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، حُصَيْنٍ
وَحَدَّثَنَاه حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں حصین سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3093]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1283 صحیح مسلم
يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، حُصَيْنٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زیاد بکائی نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے۔ میں نے اس ہستی سے سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ آپ اسی جگہ «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انہوں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تلبیہ پکارا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3094 صحیح مسلم
يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، حُصَيْنٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زیاد بکائی نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے۔ میں نے اس ہستی سے سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ آپ اسی جگہ «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انہوں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تلبیہ پکارا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة