يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، حُصَيْنٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
وَحَدَّثَنِيهِ يُوسُفُ بْنُ حَمَّادٍ الْمَعْنِيُّ ، حَدَّثَنَا زِيَادٌ يَعْنِي الْبَكَّائِيَّ ، عَنْ حُصَيْنٍ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، وَالْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَا: سَمِعْنَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ بِجَمْعٍ: سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ هَاهُنَا، يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "، ثُمَّ لَبَّى وَلَبَّيْنَا مَعَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زیاد بکائی نے حصین سے حدیث بیان کی، انہوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی، دونوں نے کہا: ہم نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فرما رہے تھے۔ میں نے اس ہستی سے سنا، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی۔ آپ اسی جگہ «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ (یہ کہہ کر) انہوں (حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے تلبیہ پکارا اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة