سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، هُشَيْمٌ ، حُصَيْنٌ ، كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُدْرِكٍ الْأَشْجَعِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ لَبَّى حِينَ أَفَاضَ مِنْ جَمْعٍ، فَقِيلَ أَعْرَابِيٌّ: هَذَا، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَنَسِيَ النَّاسُ أَمْ ضَلُّوا، سَمِعْتُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، يَقُولُ فِي هَذَا الْمَكَانِ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشیم نے کہا: ہمیں حصین نے کثیر بن مدرک اشجعی سے خبر دی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مزدلفہ سے لوٹتے وقت تلبیہ کہا: تو کہا گیا: کیا یہ اعرابی (بدو) ہیں؟ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا لوگ بھول گئے ہیں یا گمراہ ہو گئے ہیں؟ میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی وہ اس جگہ پر «لبيك اللهم لبيك» کہہ رہے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3092]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة