عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبُ ، مُجَاهِدًا ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: قِدْرٍ لِي، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابوربیع نے حدیث بیان کی (دونوں نے کہا) ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی (حماد بن زید نے کہا) ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مجاہد سے سنا، وہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں۔۔۔قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابوربیع کے بقول۔۔۔اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہارے سر کی مخلوق (جوئیں) تمہارے لیے باعث اذیت ہیں؟“ کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوادو (اور فدیے کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو۔ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا (ایک) قربانی دے دو۔“ ایوب نے کہا: مجھے علم نہیں ان (فدیے کی صورتوں میں) سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2877]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة