بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 16
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبُ ، مُجَاهِدًا ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: قِدْرٍ لِي، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابوربیع نے حدیث بیان کی (دونوں نے کہا) ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی (حماد بن زید نے کہا) ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مجاہد سے سنا، وہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں۔۔۔قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابوربیع کے بقول۔۔۔اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہارے سر کی مخلوق (جوئیں) تمہارے لیے باعث اذیت ہیں؟ کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوادو (اور فدیے کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو۔ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا (ایک) قربانی دے دو۔ ایوب نے کہا: مجھے علم نہیں ان (فدیے کی صورتوں میں) سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2877]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2877 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَيُّوبَ ، أَبُو الرَّبِيعِ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبُ ، مُجَاهِدًا ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، وَأَنَا أُوقِدُ تَحْتَ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ: قِدْرٍ لِي، وقَالَ أَبُو الرَّبِيعِ: بُرْمَةٍ لِي وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاحْلِقْ وَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ أَيُّوبُ: فَلَا أَدْرِي بِأَيِّ ذَلِكَ بَدَأَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابوربیع نے حدیث بیان کی (دونوں نے کہا) ہمیں حماد بن زید نے حدیث سنائی (حماد بن زید نے کہا) ہمیں ایوب نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے مجاہد سے سنا، وہ عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حدیبیہ کے دنوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے میں۔۔۔قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابوربیع کے بقول۔۔۔اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور (میرے سر کی) جوئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہارے سر کی مخلوق (جوئیں) تمہارے لیے باعث اذیت ہیں؟ کہا: میں نے جواب دیا جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوادو (اور فدیے کے طور پر) تین دن کے روزے رکھو۔ یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ یا (ایک) قربانی دے دو۔ ایوب نے کہا: مجھے علم نہیں ان (فدیے کی صورتوں میں) سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2877]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنِ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2878]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2878 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنِ عُلَيَّةَ ، أَيُّوبَ
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ: بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2878]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن عون نے مجاہد سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: پھر اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: ذرا قریب آؤ۔ میں آپ کے (کچھ) قریب ہو گیا آپ نے فرمایا: اور قریب آؤ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں ایذا دیتی ہیں؟ ابن عون نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (کعب رضی اللہ عنہ) نے کہا جی ہاں (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ روزے، صدقے یا قربانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2879]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2879 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، ابْنِ عَوْنٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: فِيَّ أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ:" ادْنُهْ فَدَنَوْتُ"، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟"، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: وَأَظُنُّهُ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَأَمَرَنِي بِفِدْيَةٍ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ مَا تَيَسَّرَ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن عون نے مجاہد سے انہوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی: پھر اگر تم میں سے کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا: ذرا قریب آؤ۔ میں آپ کے (کچھ) قریب ہو گیا آپ نے فرمایا: اور قریب آؤ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں ایذا دیتی ہیں؟ ابن عون نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (کعب رضی اللہ عنہ) نے کہا جی ہاں (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ روزے، صدقے یا قربانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2879]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سَيْفٌ ، مُجَاهِدًا ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیف (بن سلیمان) نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنائی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اوپر (کی طرف) کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوالو۔ (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تین دن کے روزے رکھو یا (کسی بھی جنس کا) ایک فرق (تین صاع) چھ مسکینوں میں صدقہ کرو یا قربانی میسر ہو کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2880]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2880 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سَيْفٌ ، مُجَاهِدًا ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ عَلَيْهِ، وَرَأْسُهُ يَتَهَافَتُ قَمْلًا، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ تَصَدَّقْ بِفَرَقٍ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوِ انْسُكْ مَا تَيَسَّرَ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیف (بن سلیمان) نے کہا: میں نے مجاہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنائی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اوپر (کی طرف) کھڑے ہوئے اور ان کے سر سے جوئیں گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں اذیت دیتی ہیں؟ میں نے کہا جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوالو۔ (کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی پھر اگر کوئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو (اور وہ سر منڈوالے) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے فرمایا: تین دن کے روزے رکھو یا (کسی بھی جنس کا) ایک فرق (تین صاع) چھ مسکینوں میں صدقہ کرو یا قربانی میسر ہو کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2880]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی نجیح، ایوب، حمید اور عبدالکریم نے مجاہد سے انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ (کعب رضی اللہ عنہ) احرام کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلانے میں لگے ہوئے تھے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہاری سر کی جوئیں تمہیں اذیت دے رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو کھلادو۔۔۔ایک فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔۔۔یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جانور کی قربانی کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2881]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2881 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی نجیح، ایوب، حمید اور عبدالکریم نے مجاہد سے انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ (کعب رضی اللہ عنہ) احرام کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلانے میں لگے ہوئے تھے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: کیا تمہاری سر کی جوئیں تمہیں اذیت دے رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کی جی ہاں، آپ نے فرمایا: تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو کھلادو۔۔۔ایک فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔۔۔یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جانور کی قربانی کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2881]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ:" آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِقْ رَأْسَكَ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوقلابہ نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ کے دنوں میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پوچھا: تمہارے سر کی جوؤں نے تمہیں اذیت دی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: سر منڈوادو۔ پھر ایک بکری بطور قربانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلادو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2882]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2882 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، خَالِدٍ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَرَّ بِهِ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فَقَالَ لَهُ:" آذَاكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ، قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْلِقْ رَأْسَكَ، ثُمَّ اذْبَحْ شَاةً نُسُكًا، أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلَاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ عَلَى سِتَّةِ مَسَاكِينَ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوقلابہ نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیبیہ کے دنوں میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پوچھا: تمہارے سر کی جوؤں نے تمہیں اذیت دی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: سر منڈوادو۔ پھر ایک بکری بطور قربانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلادو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2882]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، كَعْبٌ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟، فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے انہوں نے کہا: میں کعب (بن عجرہ) رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت (کوفہ کی ایک) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا: «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» تو روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: میرا خیال نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟ میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: (تمہارے ذمے) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔ (پھر کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمہارے لیے بھی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2883]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2883 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، كَعْبٌ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟، فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے انہوں نے کہا: میں کعب (بن عجرہ) رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت (کوفہ کی ایک) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا: «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» تو روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: میرا خیال نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟ میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: (تمہارے ذمے) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔ (پھر کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمہارے لیے بھی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2883]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1201 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟"، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن معقل نے انہوں نے کہا: مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جوئیں پڑ گئیں۔ اس (بات) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی قربانی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انہیں حکم دیا: تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا مہیا کرو مسکینوں کے لیے ایک صاع ہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، اس کے بعد یہ (اجازت) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2884]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2884 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟"، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن معقل نے انہوں نے کہا: مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جوئیں پڑ گئیں۔ اس (بات) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پوچھا: کیا تمہارے پاس کوئی قربانی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انہیں حکم دیا: تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا مہیا کرو مسکینوں کے لیے ایک صاع ہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، اس کے بعد یہ (اجازت) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2884]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة