بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2883 — باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: تکلیف لاحق ہونے کی صورت میں محرم کو سر منڈانے کی اجازت اور اس پر فدیہ کا بیان۔ حدیث 2883
حدیث نمبر: 2883 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، كَعْبٌ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، فَقَالَ كَعْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَزَلَتْ فِيَّ، كَانَ بِي أَذًى مِنْ رَأْسِي، فَحُمِلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي، فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ بَلَغَ مِنْكَ مَا أَرَى، أَتَجِدُ شَاةً؟، فَقُلْتُ: لَا، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196، قَالَ: صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، أَوْ إِطْعَامُ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، نِصْفَ صَاعٍ طَعَامًا لِكُلِّ مِسْكِينٍ"، قَالَ: فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهِيَ لَكُمْ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے عبدالرحمان بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انہوں نے عبداللہ بن معقل سے انہوں نے کہا: میں کعب (بن عجرہ) رضی اللہ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت (کوفہ کی ایک) مسجد میں تشریف فرما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا: «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» تو روزوں یا صدقہ یا قربانی سے فدیہ دے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے جایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر پڑ رہی تھیں تو آپ نے فرمایا: میرا خیال نہیں تھا کہ تمہاری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟ میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ «فَفِدْیَةٌ مِّنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُکٍ» (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے) فرمایا: (تمہارے ذمے) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھانا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھانا۔ (پھر کعب رضی اللہ عنہ نے) کہا: یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمہارے لیے بھی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2883]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2882) باب پر واپس اگلی حدیث (2884) →