أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْأَصْبَهَانِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ ، حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ خَرَجَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْرِمًا، فَقَمِلَ رَأْسُهُ وَلِحْيَتُهُ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، فَدَعَا الْحَلَّاقَ فَحَلَقَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" هَلْ عِنْدَكَ نُسُكٌ؟"، قَالَ: مَا أَقْدِرُ عَلَيْهِ،" فَأَمَرَهُ أَنْ يَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ سِتَّةَ مَسَاكِينَ، لِكُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ"، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ خَاصَّةً فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ سورة البقرة آية 196 ثُمَّ كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زکریا بن ابی زائدہ سے روایت ہے کہا: ہمیں عبدالرحمان بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا مجھے عبداللہ بن معقل نے انہوں نے کہا: مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ وہ احرام باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں (کثرت سے) جوئیں پڑ گئیں۔ اس (بات) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انہیں بلا بھیجا اور حجام کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پوچھا: ”کیا تمہارے پاس کوئی قربانی ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: (اے اللہ کے رسول) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انہیں حکم دیا: ”تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا مہیا کرو مسکینوں کے لیے ایک صاع ہو“ اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، اس کے بعد یہ (اجازت) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2884]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة