مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ ، وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَحُمَيْدٍ وَعَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ، وَهُوَ مُحْرِمٌ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ، وَالْقَمْلُ يَتَهَافَتُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ هَذِهِ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاحْلِقْ رَأْسَكَ، وَأَطْعِمْ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ وَالْفَرَقُ ثَلَاثَةُ آصُعٍ أَوْ صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، أَوِ انْسُكْ نَسِيكَةً"، قَالَ ابْنُ أَبِي نَجِيحٍ: أَوِ اذْبَحْ شَاةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن ابی نجیح، ایوب، حمید اور عبدالکریم نے مجاہد سے انہوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انہوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں داخل ہونے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ (کعب رضی اللہ عنہ) احرام کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلانے میں لگے ہوئے تھے جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فرمایا: ”کیا تمہاری سر کی جوئیں تمہیں اذیت دے رہی ہیں؟“ انہوں نے عرض کی جی ہاں، آپ نے فرمایا: ”تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھانا چھ مسکینوں کو کھلادو۔۔۔ایک فرق تین صاع کا ہوتا ہے۔۔۔یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جانور کی قربانی کرو۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2881]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة