بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: جنازہ کے پیچھے جانا اور نماز جنازہ پڑھنے کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 945 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون، وحرملة، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ "، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ، انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ، وَزَادَ الْآخَرَانِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطاہر، حرملہ، یحییٰ اور ہارون بن سعید ایلی۔۔۔ اس روایت کے الفاظ ہارون اور حرملہ کے ہیں۔۔۔ میں سے ہارون نے کہا: ہمیں حدیث سنائی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جنازے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس (جنازے) میں شریک رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ پوچھا گیا: دو قیراط سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے مانند۔ ابوطاہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی۔ دوسرے دو اساتذہ نے اضافہ کیا: ابن شہاب نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے، جب ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی تو انہوں نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں میں نقصان اٹھایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2189]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2189 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، واللفظ لهارون، وحرملة، قَالَ هَارُونُ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَهَا حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ "، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ، انْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ، وَزَادَ الْآخَرَانِ: قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُصَلِّي عَلَيْهَا ثُمَّ يَنْصَرِفُ، فَلَمَّا بَلَغَهُ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَقَدْ ضَيَّعْنَا قَرَارِيطَ كَثِيرَةً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوطاہر، حرملہ، یحییٰ اور ہارون بن سعید ایلی۔۔۔ اس روایت کے الفاظ ہارون اور حرملہ کے ہیں۔۔۔ میں سے ہارون نے کہا: ہمیں حدیث سنائی اور دوسرے دونوں نے کہا: ہمیں ابن وہب نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عبدالرحمن بن ہرمز اعرج نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص جنازے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنازہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس (جنازے) میں شریک رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ پوچھا گیا: دو قیراط سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے مانند۔ ابوطاہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی۔ دوسرے دو اساتذہ نے اضافہ کیا: ابن شہاب نے کہا: سالم بن عبداللہ بن عمر نے کہا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نماز جنازہ پڑھ کر لوٹ آتے تھے، جب ان کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث پہنچی تو انہوں نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں میں نقصان اٹھایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2189]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 945 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ: " الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ "، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى: " حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا "، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: " حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالاعلیٰ اور عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (یہ روایت) ان الفاظ: دو عظیم پہاڑوں تک بیان کی اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ اور عبدالاعلیٰ کی حدیث میں ہے: یہاں تک کہ اس (کے دفن) سے فراغت ہو جائے۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: یہاں تک کہ اس کو لحد میں رکھ دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2190]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2190 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ الْأَعْلَى ، ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، كِلَاهُمَا، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْلِهِ: " الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ "، وَلَمْ يَذْكُرَا مَا بَعْدَهُ، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الْأَعْلَى: " حَتَّى يُفْرَغَ مِنْهَا "، وَفِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ: " حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالاعلیٰ اور عبدالرزاق نے معمر سے، انہوں نے زہری سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (یہ روایت) ان الفاظ: دو عظیم پہاڑوں تک بیان کی اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ اور عبدالاعلیٰ کی حدیث میں ہے: یہاں تک کہ اس (کے دفن) سے فراغت ہو جائے۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے: یہاں تک کہ اس کو لحد میں رکھ دیا جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2190]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 945 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، رِجَالٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَقَالَ: " وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے کئی لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس طرح معمر کی حدیث ہے اور کہا: اور جو اس کو دفن کیے جانے تک اس کے ساتھ رہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2191]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2191 صحیح مسلم
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، رِجَالٌ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: حَدَّثَنِي رِجَالٌ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ، وَقَالَ: " وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: مجھے کئی لوگوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جس طرح معمر کی حدیث ہے اور کہا: اور جو اس کو دفن کیے جانے تک اس کے ساتھ رہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2191]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 945 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، بَهْزٌ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ تَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ "، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے پیچھے (قبرستان) نہیں گیا تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے اور اگر وہ اس کے پیچھے گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ان دونوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2192]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2192 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، بَهْزٌ ، وُهَيْبٌ ، سُهَيْلٌ ، أَبِيهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ، وَلَمْ يَتْبَعْهَا فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ تَبِعَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ "، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟، قَالَ: أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سہیل کے والد ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، فرمایا: جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے پیچھے (قبرستان) نہیں گیا تو اس کے لیے ایک قیراط (اجر) ہے اور اگر وہ اس کے پیچھے گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں۔ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ فرمایا: ان دونوں میں سے چھوٹا احد پہاڑ کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2192]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 945 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَقِيرَاطَانِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَا الْقِيرَاطُ؟، قَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لیے قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ اسے قبر میں اتار دیا گیا تو (اس کے لیے) دو قیراط ہیں۔ (ابوحازم نے) کہا: میں نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، قیراط کیا ہے؟ انہوں نے کہا: احد پہاڑ کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2193]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2193 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنِ اتَّبَعَهَا حَتَّى تُوضَعَ فِي الْقَبْرِ فَقِيرَاطَانِ "، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ وَمَا الْقِيرَاطُ؟، قَالَ: مِثْلُ أُحُدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لیے قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ اسے قبر میں اتار دیا گیا تو (اس کے لیے) دو قیراط ہیں۔ (ابوحازم نے) کہا: میں نے کہا: اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، قیراط کیا ہے؟ انہوں نے کہا: احد پہاڑ کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2193]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 945 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، نَافِعٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص جنازے کے پیچھے چلا تو اس کے لیے قیراط اجر ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کثرت سے احادیث سنائی ہیں، اس کے بعد انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2194]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2194 صحیح مسلم
شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، نَافِعٌ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، قَالَ: قِيلَ لِابْنِ عُمَرَ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ مِنَ الْأَجْرِ "، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: أَكْثَرَ عَلَيْنَا أَبُو هُرَيْرَةَ، فَبَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ فَسَأَلَهَا، فَصَدَّقَتْ أَبَا هُرَيْرَةَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
نافع نے کہا: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جو شخص جنازے کے پیچھے چلا تو اس کے لیے قیراط اجر ہے۔ اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں کثرت سے احادیث سنائی ہیں، اس کے بعد انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس پیغام بھیجا اور ان سے پوچھا، تو انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرمائی، اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2194]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 945 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد عامر سے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحب مقصود خباب رضی اللہ عنہ نے آکر کہا: اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ بلاشبہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے بطور اجر دو قیراط ہیں، ہر قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے اور جس نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور لوٹ آیا اس کا اجر احد پہاڑ جیسا ہے۔‘ (یہ بات سن کر) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا (تاکہ) وہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں دریافت کریں اور پھر واپس آکر ان کو بتائیں کہ انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کیا کہا۔ (اس دوران میں) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھر لی اور ان کو اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرنے لگے یہاں تک کہ پیغام رساں ان کے پاس واپس آگیا، اس نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ کنکریاں جو ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: یقیناً ہم نے بہت قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2195]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2195 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد عامر سے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحب مقصود خباب رضی اللہ عنہ نے آکر کہا: اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ بلاشبہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے بطور اجر دو قیراط ہیں، ہر قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے اور جس نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور لوٹ آیا اس کا اجر احد پہاڑ جیسا ہے۔‘ (یہ بات سن کر) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا (تاکہ) وہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں دریافت کریں اور پھر واپس آکر ان کو بتائیں کہ انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کیا کہا۔ (اس دوران میں) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھر لی اور ان کو اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرنے لگے یہاں تک کہ پیغام رساں ان کے پاس واپس آگیا، اس نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ کنکریاں جو ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: یقیناً ہم نے بہت قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2195]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 946 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، ثَوْبَانَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنائی، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں، (ایک) قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2196]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2196 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةُ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، ثَوْبَانَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي قَتَادَةُ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم، قَالَ: " مَنْ صَلَّى عَلَى جَنَازَةٍ فَلَهُ قِيرَاطٌ، فَإِنْ شَهِدَ دَفْنَهَا فَلَهُ قِيرَاطَانِ، الْقِيرَاطُ مِثْلُ أُحُدٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنائی، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ یعمری سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے نماز جنازہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں، (ایک) قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2196]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 946 صحیح مسلم
ابْنُ بَشَّارٍ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ
وحَدَّثَنِي ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قال: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَهِشَامٍ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ: " مِثْلُ أُحُدٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام، سعید اور ابان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند روایت کی، سعید اور ہشام کی حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیراط کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: احد (پہاڑ) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2197]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2197 صحیح مسلم
ابْنُ بَشَّارٍ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَفَّانُ ، أَبَانُ ، قَتَادَةَ
وحَدَّثَنِي ابْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قال: وَحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ كُلُّهُمْ، عَنْ قَتَادَةَبِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ سَعِيدٍ، وَهِشَامٍ: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْقِيرَاطِ؟، فَقَالَ: " مِثْلُ أُحُدٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام، سعید اور ابان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند روایت کی، سعید اور ہشام کی حدیث میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قیراط کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا: احد (پہاڑ) کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2197]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة