مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَيْوَةُ ، أَبُو صَخْرٍ ، يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، أَبِيهِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي حَيْوَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ دَاوُدَ بْنَ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ كَانَ قَاعِدًا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، إِذْ طَلَعَ خَبَّابٌ صَاحِبُ الْمَقْصُورَةِ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَلَا تَسْمَعُ مَا يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَنْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ مِنْ بَيْتِهَا وَصَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ تَبِعَهَا حَتَّى تُدْفَنَ، كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ مِنْ أَجْرٍ، كُلُّ قِيرَاطٍ مِثْلُ أُحُدٍ، وَمَنْ صَلَّى عَلَيْهَا، ثُمَّ رَجَعَ كَانَ لَهُ مِنَ الْأَجْرِ مِثْلُ أُحُدٍ "، فَأَرْسَلَ ابْنُ عُمَرَ خَبَّابًا إِلَى عَائِشَةَ، يَسْأَلُهَا عَنْ قَوْلِ أَبِي هُرَيْرَةَ، ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَيْهِ فَيُخْبِرُهُ مَا قَالَتْ، وَأَخَذَ ابْنُ عُمَرَ قَبْضَةً مِنْ حَصْبَاءِ الْمَسْجِدِ يُقَلِّبُهَا فِي يَدِهِ، حَتَّى رَجَعَ إِلَيْهِ الرَّسُولُ، فَقَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : صَدَقَ أَبُو هُرَيْرَةَ، فَضَرَبَ ابْنُ عُمَرَ بِالْحَصَى الَّذِي كَانَ فِي يَدِهِ الْأَرْضَ، ثُمَّ قَالَ: لَقَدْ فَرَّطْنَا فِي قَرَارِيطَ كَثِيرَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
داود بن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد عامر سے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ صاحب مقصود خباب رضی اللہ عنہ نے آکر کہا: ”اے عبداللہ بن عمر! کیا آپ نے سنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا کہتے ہیں؟ بلاشبہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکلا اور اس کی نماز جنازہ ادا کی، پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے بطور اجر دو قیراط ہیں، ہر قیراط احد (پہاڑ) کے مانند ہے اور جس نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور لوٹ آیا اس کا اجر احد پہاڑ جیسا ہے۔‘“ (یہ بات سن کر) حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے خباب رضی اللہ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا (تاکہ) وہ ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے قول کے بارے میں دریافت کریں اور پھر واپس آکر ان کو بتائیں کہ انہوں (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کیا کہا۔ (اس دوران میں) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھر لی اور ان کو اپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرنے لگے یہاں تک کہ پیغام رساں ان کے پاس واپس آگیا، اس نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے، اس پر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے وہ کنکریاں جو ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں، پھر کہا: یقیناً ہم نے بہت قیراطوں (کے حصول) میں کوتاہی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2195]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة