بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عید کے روز جن کھیلوں میں گناہ نہیں ان کی رخصت کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نماز عیدین کے احکام و مسائل باب: عید کے روز جن کھیلوں میں گناہ نہیں ان کی رخصت کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَار، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْر: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں۔ اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہے تھے، انہیں گا رہی تھیں۔ کہا: وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں شیطان کی آواز (بلند ہو رہی) ہے؟ اور یہ عید کے دن ہوا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! ہر قوم کے لیے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2061]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2061 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبُو بَكْرٍ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ مِنْ جَوَارِي الْأَنْصَار، تُغَنِّيَانِ بِمَا تَقَاوَلَتْ بِهِ الْأَنْصَارُ يَوْمَ بُعَاثَ، قَالَتْ: وَلَيْسَتَا بِمُغَنِّيَتَيْنِ، فَقَالَ أَبُو بَكْر: أَبِمَزْمُورِ الشَّيْطَانِ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَذَلِكَ فِي يَوْمِ عِيدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَبَا بَكْرٍ إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا وَهَذَا عِيدُنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ میرے پاس انصار کی دو بچیاں تھیں۔ اور انصار نے جنگ بعاث میں جو اشعار ایک دوسرے کے مقابلے میں کہے تھے، انہیں گا رہی تھیں۔ کہا: وہ کوئی گانے والیاں نہ تھیں۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (انہیں دیکھ کر) کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں شیطان کی آواز (بلند ہو رہی) ہے؟ اور یہ عید کے دن ہوا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوبکر! ہر قوم کے لیے ایک عید ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2061]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: " وَفِيهِ جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٍّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور اس میں ہے دو بچیاں دف سے کھیل رہی تھیں (دف بجا رہی تھیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2062]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2062 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبِي مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، جَمِيعًا، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: " وَفِيهِ جَارِيَتَانِ تَلْعَبَانِ بِدُفٍّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور اس میں ہے دو بچیاں دف سے کھیل رہی تھیں (دف بجا رہی تھیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2062]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَف رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ، وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ". وَقَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں عروہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ منیٰ کے ایام میں میرے پاس دو بچیاں گا رہی تھیں۔ اور دف بجا رہی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے آپ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑیئے کہ یہ عید کے دن ہیں۔ اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن لڑکی تھی، ذرا اندازہ لگاؤ اس لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین، نو عمر تھی (وہ کتنی دیر کھیل دیکھے گی؟)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2063]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2063 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَف رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ، وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ". وَقَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں عروہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ منیٰ کے ایام میں میرے پاس دو بچیاں گا رہی تھیں۔ اور دف بجا رہی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے آپ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑیئے کہ یہ عید کے دن ہیں۔ اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن لڑکی تھی، ذرا اندازہ لگاؤ اس لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین، نو عمر تھی (وہ کتنی دیر کھیل دیکھے گی؟)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2063]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَى اللَّهْوِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے اور انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے چھوٹے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مسجد میں کھیل (مشقیں کر رہے) تھے۔ اور آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے ہیں تاکہ میں ان کے کرتب دیکھ سکوں، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی ہوں جو واپس پلٹی، اندازہ کرو ایک نو عمر لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین ہو (کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2064]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2064 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي، وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ فِي مَسْجِدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ، ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ حَرِيصَةً عَلَى اللَّهْوِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے اور انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہیں اور حبشی اپنے چھوٹے نیزوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مسجد میں کھیل (مشقیں کر رہے) تھے۔ اور آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے ہیں تاکہ میں ان کے کرتب دیکھ سکوں، پھر آپ میری خاطر کھڑے رہے حتیٰ کہ میں ہی ہوں جو واپس پلٹی، اندازہ کرو ایک نو عمر لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین ہو (کتنی دیر تک کھڑی رہی ہوگی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2064]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعْهُمَا "، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ "، حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: " حَسْبُكِ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاذْهَبِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبدالرحمان نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (گھر میں) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس دو بچیاں جنگ بعاث کے اشعار بلند آواز سے سنا رہی تھیں۔ آپ بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ (دوسری سمت) پھیر لیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ تو انہوں نے مجھے سرزنش کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں شیطان کی آواز؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: انہیں چھوڑیئے۔ جب ان (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی توجہ ہٹی تو میں نے ان کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔ اور عید کا ایک دن تھا، کالے لوگ ڈھالوں اور بھالوں کے کرتب دکھا رہے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی یا آپ نے خود ہی فرمایا: دیکھنے کی خواہش رکھتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر (لگ رہا) تھا اور آپ فرما رہے تھے: اے ارفدہ کے بیٹو! (اپنا مظاہرہ) جاری رکھو۔ حتیٰ کہ جب میں اکتا گئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے کافی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: تو چلی جاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2065]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2065 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِهَارُونَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرٌو ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَهُ عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدِي جَارِيَتَانِ تُغَنِّيَانِ بِغِنَاءِ بُعَاثٍ، فَاضْطَجَعَ عَلَى الْفِرَاشِ وَحَوَّلَ وَجْهَهُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَانْتَهَرَنِي، وَقَالَ: مِزْمَارُ الشَّيْطَانِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " دَعْهُمَا "، فَلَمَّا غَفَلَ غَمَزْتُهُمَا فَخَرَجَتَا، وَكَانَ يَوْمَ عِيدٍ يَلْعَبُ السُّودَانُ بِالدَّرَقِ وَالْحِرَابِ، فَإِمَّا سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِمَّا قَالَ: " تَشْتَهِينَ تَنْظُرِينَ "، فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَأَقَامَنِي وَرَاءَهُ خَدِّي عَلَى خَدِّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: " دُونَكُمْ يَا بَنِي أَرْفِدَةَ "، حَتَّى إِذَا مَلِلْتُ، قَالَ: " حَسْبُكِ "، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَاذْهَبِي ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبدالرحمان نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (گھر میں) داخل ہوئے جبکہ میرے پاس دو بچیاں جنگ بعاث کے اشعار بلند آواز سے سنا رہی تھیں۔ آپ بستر پر لیٹ گئے اور اپنا چہرہ (دوسری سمت) پھیر لیا۔ اس کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ تو انہوں نے مجھے سرزنش کی اور کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں شیطان کی آواز؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: انہیں چھوڑیئے۔ جب ان (ابوبکر رضی اللہ عنہ) کی توجہ ہٹی تو میں نے ان کو اشارہ کیا اور وہ چلی گئیں۔ اور عید کا ایک دن تھا، کالے لوگ ڈھالوں اور بھالوں کے کرتب دکھا رہے تھے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے درخواست کی یا آپ نے خود ہی فرمایا: دیکھنے کی خواہش رکھتی ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ نے مجھے اپنے پیچھے کھڑا کر لیا، میرا رخسار آپ کے رخسار پر (لگ رہا) تھا اور آپ فرما رہے تھے: اے ارفدہ کے بیٹو! (اپنا مظاہرہ) جاری رکھو۔ حتیٰ کہ جب میں اکتا گئی (تو) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے لیے کافی ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمایا: تو چلی جاؤ۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2065]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ، حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حبشی آ کر عید کے دن مسجد میں ہتھیاروں کے ساتھ اچھل کود رہے تھے، (ہتھیاروں کا مظاہرہ کر رہے تھے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے اپنا سر آپ کے کندھے پر رکھا اور ان کا کھیل (کرتب) دیکھنے لگی (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے رہے) یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کے کھیل کے نظارے سے واپسی اختیار کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2066]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2066 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، جَرِيرٌ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " جَاءَ حَبَشٌ يَزْفِنُونَ فِي يَوْمِ عِيدٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَدَعَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُ رَأْسِي عَلَى مَنْكِبِهِ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى لَعِبِهِمْ، حَتَّى كُنْتُ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ عَنِ النَّظَرِ إِلَيْهِمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہشام سے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حبشی آ کر عید کے دن مسجد میں ہتھیاروں کے ساتھ اچھل کود رہے تھے، (ہتھیاروں کا مظاہرہ کر رہے تھے) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا، میں نے اپنا سر آپ کے کندھے پر رکھا اور ان کا کھیل (کرتب) دیکھنے لگی (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے رہے) یہاں تک کہ میں نے خود ہی ان کے کھیل کے نظارے سے واپسی اختیار کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2066]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور محمد بن بشر دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی طرح) روایت کی اور انہوں نے فی المسجد (مسجد میں) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2067]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2067 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ ، ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، كِلَاهُمَا، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرَا فِي الْمَسْجِدِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور محمد بن بشر دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کی طرح) روایت کی اور انہوں نے فی المسجد (مسجد میں) کے الفاظ ذکر نہیں کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2067]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 892 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، أَبِي عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلهم، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ، قَالَتْ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْتُ عَلَى الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ "، قَالَ عَطَاءٌ: " فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ؟ " قَالَ: وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ: " بَلْ حَبَشٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے بتایا کہ مجھے عبید بن عمیر نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے کھیلنے والوں کے بارے میں کہا: میں ان کا کھیل دیکھنا چاہتی ہوں۔ کہا: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور میں دروازے پر کھڑی ہو کر آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سے دیکھنے لگی اور وہ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے۔ عطاء نے کہا: وہ ایرانی تھے یا حبشی۔ اور کہا: مجھے ابن عتیق یعنی عبید بن عمیر نے بتایا کہ وہ حبشی تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2068]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2068 صحیح مسلم
إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، أَبِي عَاصِمٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةُ
وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد كلهم، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، عَنْ أَبِي عَاصِمٍ وَاللَّفْظُ لِعُقْبَةَ، قَال: حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " لِلَعَّابِينَ وَدِدْتُ أَنِّي أَرَاهُمْ، قَالَتْ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقُمْتُ عَلَى الْبَابِ أَنْظُرُ بَيْنَ أُذُنَيْهِ وَعَاتِقِهِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ "، قَالَ عَطَاءٌ: " فُرْسٌ أَوْ حَبَشٌ؟ " قَالَ: وَقَالَ لِي ابْنُ عَتِيقٍ: " بَلْ حَبَشٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے بتایا کہ مجھے عبید بن عمیر نے خبر دی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انہوں نے کھیلنے والوں کے بارے میں کہا: میں ان کا کھیل دیکھنا چاہتی ہوں۔ کہا: اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے اور میں دروازے پر کھڑی ہو کر آپ کے کانوں اور کندھوں کے درمیان سے دیکھنے لگی اور وہ لوگ مسجد میں کھیل رہے تھے۔ عطاء نے کہا: وہ ایرانی تھے یا حبشی۔ اور کہا: مجھے ابن عتیق یعنی عبید بن عمیر نے بتایا کہ وہ حبشی تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2068]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 893 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جبکہ حبشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنے بھالوں سے کھیل رہے تھے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور کنکریاں اٹھانے کے لیے جھکے تاکہ وہ انہیں کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2069]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2069 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عَبْدُ: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: " بَيْنَمَا الْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَابِهِمْ، إِذْ دَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَأَهْوَى إِلَى الْحَصْبَاءِ يَحْصِبُهُمْ بِهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعْهُمْ يَا عُمَرُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جبکہ حبشی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنے بھالوں سے کھیل رہے تھے تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پہنچ گئے اور کنکریاں اٹھانے کے لیے جھکے تاکہ وہ انہیں کنکریاں ماریں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا: عمر! انہیں چھوڑ دو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2069]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة