بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 2063 — باب: عید کے روز جن کھیلوں میں گناہ نہیں ان کی رخصت کا بیان۔
کتب صحیح مسلم نماز عیدین کے احکام و مسائل باب: عید کے روز جن کھیلوں میں گناہ نہیں ان کی رخصت کا بیان۔ حدیث 2063
حدیث نمبر: 2063 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا جَارِيَتَانِ فِي أَيَّامِ مِنًى تُغَنِّيَانِ وَتَضْرِبَانِ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسَجًّى بِثَوْبِهِ، فَانْتَهَرَهُمَا أَبُو بَكْرٍ، فَكَشَف رَسُولُ اللَّهِ عَنْهُ، وَقَالَ: " دَعْهُمَا يَا أَبَا بَكْرٍ فَإِنَّهَا أَيَّامُ عِيدٍ ". وَقَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى الْحَبَشَةِ وَهُمْ يَلْعَبُونَ وَأَنَا جَارِيَةٌ، فَاقْدِرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْعَرِبَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے کہا کہ ابن شہاب نے انہیں عروہ سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی (انہوں نے کہا) کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے ہاں تشریف لائے جبکہ منیٰ کے ایام میں میرے پاس دو بچیاں گا رہی تھیں۔ اور دف بجا رہی تھیں۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کپڑا اوڑھے لیٹے ہوئے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کو ڈانٹا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے آپ سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا: ابوبکر! انہیں چھوڑیئے کہ یہ عید کے دن ہیں۔ اور (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مجھے اپنی چادر سے چھپائے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کو دیکھ رہی تھی کہ وہ کھیل رہے تھے اور میں کم سن لڑکی تھی، ذرا اندازہ لگاؤ اس لڑکی کا شوق کس قدر ہوگا جو کھیل کی شوقین، نو عمر تھی (وہ کتنی دیر کھیل دیکھے گی؟)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 2063]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (2062) باب پر واپس اگلی حدیث (2064) →