بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مسافروں کی نماز اور قصر کے احکام باب: اقامت میں دو نمازوں کو جمع کرنا۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1628]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1628 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ نے ابوزبیر سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا کسی خوف اور سفر کے بغیر۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1628]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، زُهَيْرٍ ، ابْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کر کے پڑھا۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1629]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1629 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ ، زُهَيْرٍ ، ابْنُ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، وَعَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ جميعا، عَنْ زُهَيْرٍ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا بِالْمَدِينَةِ فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا سَفَرٍ "، قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: فَسَأَلْتُ سَعِيدًا: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، كَمَا سَأَلْتَنِي، فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أَحَدًا مِنْ أُمَّتِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے سعید بن جبیر سے حدیث سنائی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر اور عصر کو مدینہ میں کسی خوف اور سفر کے بغیر جمع کر کے پڑھا۔ ابوزبیر نے کہا: میں نے (ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد) سعید سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: میں نے بھی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تھا جیسے تم نے مجھ سے سوال کیا ہے تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کے کسی فرد کو تنگی اور دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1629]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قُرَّةُ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔ سعید نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج (اور تنگی) میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1630]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1630 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قُرَّةُ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔ سعید نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج (اور تنگی) میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1630]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 706 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، " فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے ابوطفیل عامر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو (اس دوران میں) آپ ظہر اور عصر اکٹھے پڑھتے رہے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1631]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1631 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرٍ ، عَنْ مُعَاذٍ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، " فَكَانَ يُصَلِّي الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے ابوطفیل عامر سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکلے تو (اس دوران میں) آپ ظہر اور عصر اکٹھے پڑھتے رہے اور مغرب اور عشاء کو جمع کرتے رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1631]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 706 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عامر بن واثلہ ابوطفیل نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر، عصر کو اور مغرب، عشاء کو جمع کیا۔ (عامر بن واثلہ نے) کہا: میں نے (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1632]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1632 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ أَبُو الطُّفَيْلِ ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَبَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں عامر بن واثلہ ابوطفیل نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر، عصر کو اور مغرب، عشاء کو جمع کیا۔ (عامر بن واثلہ نے) کہا: میں نے (حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے) پوچھا: آپ نے ایسا کیوں کیا؟ تو انہوں نے کہا: آپ نے چاہا کہ اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1632]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الأَعْمَشِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح. وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ "، فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے حبیب بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔ وکیع کی روایت میں ہے (سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1633]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1633 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الأَعْمَشِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح. وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ "، فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے حبیب بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔ وکیع کی روایت میں ہے (سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1633]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، " أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ؟ قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے (ابوشعشاء) جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر اور عصر) اکٹھے اور سات رکعات (مغرب اور عشاء) اکٹھے پڑھیں۔ (عمرو نے کہا) میں نے ابوشعشاء (جابر بن زید) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1634]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1634 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرٍو ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ عَمْرٍو ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثَمَانِيًا جَمِيعًا، وَسَبْعًا جَمِيعًا، قُلْتُ: يَا أَبَا الشَّعْثَاءِ، " أَظُنُّهُ أَخَّرَ الظُّهْرَ، وَعَجَّلَ الْعَصْرَ، وَأَخَّرَ الْمَغْرِبَ، وَعَجَّلَ الْعِشَاءَ؟ قَالَ: وَأَنَا أَظُنُّ ذَاكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے (ابوشعشاء) جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آٹھ رکعات (ظہر اور عصر) اکٹھے اور سات رکعات (مغرب اور عشاء) اکٹھے پڑھیں۔ (عمرو نے کہا) میں نے ابوشعشاء (جابر بن زید) سے کہا کہ میرا خیال ہے آپ نے ظہر کو موخر کیا اور عصر جلدی پڑھی اور مغرب کو موخر کیا اور عشاء میں جلدی کی۔ انہوں نے کہا: میرا بھی یہی خیال ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1634]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا، وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (ملا کر پڑھیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1635]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1635 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " صَلَّى بِالْمَدِينَةِ سَبْعًا، وَثَمَانِيًا الظُّهْرَ، وَالْعَصْرَ، وَالْمَغْرِبَ، وَالْعِشَاءَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے، انہوں نے جابر بن زید سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ میں سات رکعات اور آٹھ رکعات نماز پڑھی، یعنی ظہر، عصر، مغرب اور عشاء (ملا کر پڑھیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1635]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ، لَا أُمَّ لَكَ؟ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: نماز، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، نماز، نماز کہے جا رہا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ماں نہ ہو! تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا: تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا، چنانچہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1636]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1636 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْخِرِّيتِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: خَطَبَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، يَوْمًا بَعْدَ الْعَصْرِ، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، وَبَدَتِ النُّجُومُ، وَجَعَلَ النَّاسُ، يَقُولُونَ: الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، قَالَ: فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ، لَا يَفْتُرُ، وَلَا يَنْثَنِي، الصَّلَاةَ، الصَّلَاةَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: أَتُعَلِّمُنِي بِالسُّنَّةِ، لَا أُمَّ لَكَ؟ ثُمَّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَقِيقٍ: فَحَاكَ فِي صَدْرِي مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ، فَأَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَسَأَلْتُهُ، فَصَدَّقَ مَقَالَتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زبیر بن خریت نے عبداللہ بن شفیق سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما عصر کے بعد ہمیں خطاب کرنے لگے حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے نمودار ہو گئے اور لوگ کہنے لگے: نماز، نماز! پھر ان کے پاس بنو تمیم کا ایک آدمی آیا جو نہ تھکتا تھا اور نہ باز آ رہا تھا، نماز، نماز کہے جا رہا تھا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: تیری ماں نہ ہو! تو مجھے سنت سکھا رہا ہے؟ پھر کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ نے ظہر و عصر کو اور مغرب و عشاء کو جمع کیا۔ عبداللہ بن شفیق نے کہا: تو اس سے میرے دل میں کچھ کھٹکنے لگا، چنانچہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے پوچھا تو انہوں نے ان (ابن عباس رضی اللہ عنہما) کے قول کی تصدیق کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1636]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 705 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَكِيعٌ ، عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاةِ، " وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمران بن خدیر نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نماز! آپ خاموش رہے، اس نے پھر کہا: نماز! آپ پھر چپ رہے، اس نے پھر کہا: نماز! تو آپ (کچھ دیر) چپ رہے، پھر فرمایا: تیری ماں نہ ہو! کیا تو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1637]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1637 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، وَكِيعٌ ، عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُدَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِابْنِ عَبَّاسٍ : الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: الصَّلَاةَ، فَسَكَتَ، ثُمّ قَالَ: لَا أُمَّ لَكَ، أَتُعَلِّمُنَا بِالصَّلَاةِ، " وَكُنَّا نَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمران بن خدیر نے عبداللہ بن شقیق عقیلی سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: نماز! آپ خاموش رہے، اس نے پھر کہا: نماز! آپ پھر چپ رہے، اس نے پھر کہا: نماز! تو آپ (کچھ دیر) چپ رہے، پھر فرمایا: تیری ماں نہ ہو! کیا تو ہمیں نماز کی تعلیم دیتا ہے؟ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں دو نمازیں جمع کر لیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1637]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة