أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَكِيعٌ ، الأَعْمَشِ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ . ح. وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ كِلَاهُمَا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ بِالْمَدِينَةِ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ، وَلَا مَطَرٍ "، فِي حَدِيثِ وَكِيعٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ قَالَ: كَيْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي مُعَاوِيَةَ، قِيلَ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا أَرَادَ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے روایت کی، انہوں نے حبیب بن ثابت سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر، عصر اور مغرب، عشاء کو مدینہ میں کسی خوف اور بارش کے بغیر جمع کیا۔ وکیع کی روایت میں ہے (سعید نے) کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: تاکہ اپنی امت کو دشواری میں مبتلا نہ کریں۔ اور ابومعاویہ کی حدیث میں ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا چاہتے ہوئے ایسا کیا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو دشواری میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1633]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة