يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، قُرَّةُ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاةِ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ "، قَالَ سَعِيدٌ: فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قرہ بن خالد نے کہا: ہمیں ابوزبیر نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے دوران ایک سفر میں نمازوں کو جمع کیا، ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھا اور مغرب اور عشاء کو اکٹھا پڑھا۔ سعید نے کہا: میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ انہوں نے کہا: آپ نے چاہا اپنی امت کو حرج (اور تنگی) میں نہ ڈالیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا/حدیث: 1630]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة