قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَيْسٍ ، قَالَ: " سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ وِتْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَابَةِ، أَكَانَ يَغْتَسِلُ قَبْلَ أَنْ يَنَامَ، أَمْ يَنَامُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَتْ: كُلُّ ذَلِكَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُ، رُبَّمَا اغْتَسَلَ، فَنَامَ، وَرُبَّمَا تَوَضَّأَ، فَنَامَ، قُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الأَمْرِ سَعَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی قیس سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وتر کے بارے میں سوال کیا ... پھر آگے حدیث بیان کی کہ میں نے پوچھا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنابت کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سو جاتے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ یہ سب کر لیتے تھے، بسا اوقات نہا کر سوتے اور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے۔ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے (دین کے) معاملے میں وسعت رکھی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 705]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة