بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام باب: اس بات کی دلیل کہ نماز وسطی سے مراد نماز عصر ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 627 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ: " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا، أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ "، شَكَّ شُعْبَةُ، فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ سے سنا، وہ ابوحسان سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور گھروں کو یا (فرمایا:) ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ گھروں یا پیٹوں کے بارے میں شعبہ کو شک ہوا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1422]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1422 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، ابْنُ الْمُثَنَّى ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَبِيدَةَ ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ: " شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى آبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ نَارًا، أَوْ بُيُوتَهُمْ أَوْ بُطُونَهُمْ "، شَكَّ شُعْبَةُ، فِي الْبُيُوتِ وَالْبُطُونِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے کہا: ہمیں قتادہ سے سنا، وہ ابوحسان سے حدیث بیان کر رہے تھے، انہوں نے عبیدہ سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ احزاب کے دن فرمایا: ان لوگوں نے ہمیں درمیانی نماز سے مشغول کیے رکھا حتی کہ سورج غروب ہو گیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں کو اور گھروں کو یا (فرمایا:) ان کے پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ گھروں یا پیٹوں کے بارے میں شعبہ کو شک ہوا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1422]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 627 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور انہوں نے بغیر شک کے «بیوتهم وقبورهم» (ان کے گھروں اور قبروں کو) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1423]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1423 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ، وَقَالَ: بُيُوتَهُمْ وَقُبُورَهُمْ وَلَمْ يَشُكَّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور انہوں نے بغیر شک کے «بیوتهم وقبورهم» (ان کے گھروں اور قبروں کو) کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1423]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 627 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَلِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، يَحْيَى ، عَلِيًّا
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ . ح، وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى ، سَمِعَ عَلِيًّا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ، أَوَ قَالَ: قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن جزار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزرگاہوں میں سے کسی گزرگاہ پر تشریف فرما تھے، فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (عصر) سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا: ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1424]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1424 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٌ ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَلِيٍّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، يَحْيَى ، عَلِيًّا
وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ ، عَنْ عَلِيٍّ . ح، وحَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ يَحْيَى ، سَمِعَ عَلِيًّا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى فُرْضَةٍ مِنْ فُرَضِ الْخَنْدَقِ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، حَتَّى غَرَبَتِ الشَّمْسُ، مَلَأَ اللَّهُ قُبُورَهُمْ وَبُيُوتَهُمْ، أَوَ قَالَ: قُبُورَهُمْ وَبُطُونَهُمْ نَارًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن جزار نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ احزاب کے موقع پر جب آپ خندق کی گزرگاہوں میں سے کسی گزرگاہ پر تشریف فرما تھے، فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (عصر) سے مشغول کر دیا حتی کہ سورج ڈوب گیا، اللہ تعالیٰ ان کی قبروں اور گھروں کو یا فرمایا: ان کی قبروں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1424]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 627 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شتیر بن شکل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی) عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا۔ (مغرب کا وقت جا رہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی، پھر عصر کی قضا پڑھی، پھر عشاء پڑھی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1425]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1425 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الأَعْمَشِ ، مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَلِيٍّ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ ، عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَحْزَابِ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ بُيُوتَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا، ثُمَّ صَلَّاهَا بَيْنَ الْعِشَاءَيْنِ، بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شتیر بن شکل نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے احزاب کے دن فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز (یعنی) عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ پھر آپ نے اسے رات کے دونوں نمازوں مغرب اور عشاء کے درمیان پڑھا۔ (مغرب کا وقت جا رہا تھا اس لیے آخری وقت میں پہلے مغرب پڑھی، پھر عصر کی قضا پڑھی، پھر عشاء پڑھی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1425]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 628 صحیح مسلم
عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ ، زُبَيْدٍ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، أَوِ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا، أَوَ قَالَ: حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مشرکوں نے (جنگ میں مشغول رکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز، عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے۔ یا فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ (ملأ کی جگہ حشا کا لفظ ارشاد فرمایا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔) فائدہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میں نماز عصر کی اہمیت کس قدر تھی، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا، دندان مبارک شہید ہوئے، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی۔ جنگ خندق میں ناز عصر فوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1426]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1426 صحیح مسلم
عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ ، زُبَيْدٍ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ سَلَّامٍ الْكُوفِيُّ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ الْيَامِيُّ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى احْمَرَّتِ الشَّمْسُ، أَوِ اصْفَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " شَغَلُونَا عَنِ الصَّلَاةِ الْوُسْطَى، صَلَاةِ الْعَصْرِ، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا، أَوَ قَالَ: حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ، وَقُبُورَهُمْ نَارًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مشرکوں نے (جنگ میں مشغول رکھ کر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عصر کی نماز سے روکے رکھا یہاں تک کہ سورج سرخ یا زرد ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہوں نے ہمیں درمیانی نماز، عصر کی نماز سے مشغول رکھا، اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں میں آگ بھر دے۔ یا فرمایا: اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں اور قبروں کو آگ سے بھر دے۔ (ملأ کی جگہ حشا کا لفظ ارشاد فرمایا، مفہوم دونوں کا ایک ہی ہے۔) فائدہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر میں نماز عصر کی اہمیت کس قدر تھی، ان احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ نیز یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طائف میں سنگ باری برداشت کی لیکن بد دعا نہ دی، احد میں جسم مبارک زخمی ہوا، دندان مبارک شہید ہوئے، ستر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جام شہادت نوش کیا جن میں آپ کے چچا سید الشہداء حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لیکن بد دعا نہ دی۔ جنگ خندق میں ناز عصر فوت ہو گئی تو کافروں کو بد دعا دی۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ نفع و نقصان کا یہی معیار پیش نظر رکھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1426]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 629 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي يُونُسَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: " إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ، فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا، آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ، " 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0 "، قَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت ہے، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے قرآن مجید لکھوں، فرمایا: جب تم اس آیت پر پہنچو «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انہیں آگاہ کیا، انہوں نے مجھے لکھوایا: «حافظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ وصلوٰة العصر، قوموا للہ قانتین» نمازوں کی حفاظت کرو اور (خاص کر) درمیانی نماز کی، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسے ہی سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1427]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1427 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، مَالِكٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، أَبِي يُونُسَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ، أَنَّهُ قَالَ: أَمَرَتْنِي عَائِشَةُ، أَنْ أَكْتُبَ لَهَا مُصْحَفًا، وَقَالَتْ: " إِذَا بَلَغْتَ هَذِهِ الآيَةَ، فَآذِنِّي حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، فَلَمَّا بَلَغْتُهَا، آذَنْتُهَا فَأَمْلَتْ عَلَيَّ، " 0 حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى وَصَلَاةِ الْعَصْرِ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ 0 "، قَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابویونس سے روایت ہے، کہا: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لیے قرآن مجید لکھوں، فرمایا: جب تم اس آیت پر پہنچو «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» تو مجھے بتانا، چنانچہ جب میں آیت پر پہنچا تو انہیں آگاہ کیا، انہوں نے مجھے لکھوایا: «حافظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ وصلوٰة العصر، قوموا للہ قانتین» نمازوں کی حفاظت کرو اور (خاص کر) درمیانی نماز کی، یعنی نماز عصر کی اور اللہ کے حضور عاجزانہ قیام کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایسے ہی سنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1427]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 630 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، يَحْيَى ابْنُ آدَمَ ، الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ابْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ، فَنَزَلَتْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 "، فَقَالَ رَجُلٌ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ: هِيَ إِذًا صَلَاةُ الْعَصْرِ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ یہ آیت «حافظوا علی الصلوٰت وصلوٰة العصر» نازل ہوئی، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری: «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» نمازوں کی نگہداشت کرو اور (خصوصاً) درمیانی نماز کی۔ اس پر ایک آدمی نے، جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان سے کہا: تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی؟ حضرت براء رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا، (اصل حقیقت) اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1428]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، يَحْيَى ابْنُ آدَمَ ، الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى ابْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الآيَةُ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ، فَقَرَأْنَاهَا مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ نَسَخَهَا اللَّهُ، فَنَزَلَتْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238 "، فَقَالَ رَجُلٌ، كَانَ جَالِسًا عِنْدَ شَقِيقٍ لَهُ: هِيَ إِذًا صَلَاةُ الْعَصْرِ؟ فَقَالَ الْبَرَاءُ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ، وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فضیل بن مرزوق نے شقیق بن عقبہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ یہ آیت «حافظوا علی الصلوٰت وصلوٰة العصر» نازل ہوئی، جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوا ہم نے اسے پڑھا، پھر اللہ تعالیٰ نے اسے منسوخ کر دیا اور آیت اس طرح اتری: «حفظوا علی الصلوٰت والصلوٰة الوسطیٰ» نمازوں کی نگہداشت کرو اور (خصوصاً) درمیانی نماز کی۔ اس پر ایک آدمی نے، جو شقیق کے پاس بیٹھا ہوا تھا، ان سے کہا: تو پھر اس سے مراد عصر کی نماز ہوئی؟ حضرت براء رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں تمہیں بتا چکا ہوں کہ یہ آیت کیسے اتری اور اللہ تعالیٰ نے کیسے اسے منسوخ کیا، (اصل حقیقت) اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1428]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 630 صحیح مسلم
الأَشْجَعِيُّ ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ الأَشْجَعِيُّ : عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا، بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسود بن قیس نے شقیق بن عقبہ سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (اسی طرح) پڑھتے رہے (آگے فضیل بن مرزوق کی سابقہ حدیث کی مانند ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1429]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1429 صحیح مسلم
الأَشْجَعِيُّ ، سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ
قَالَ مُسْلِم وَرَوَاهُ الأَشْجَعِيُّ : عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ: قَرَأْنَاهَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَمَانًا، بِمِثْلِ حَدِيثِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسود بن قیس نے شقیق بن عقبہ سے، انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم یہ آیت ایک عرصے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (اسی طرح) پڑھتے رہے (آگے فضیل بن مرزوق کی سابقہ حدیث کی مانند ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1429]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 631 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبُو غَسَّانَ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ، جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ، حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا، فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَوَضَّأْنَا، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے (بھی) نہیں پڑھی۔ پھر ہم (وادی) بطحان میں اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1430]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1430 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، أَبُو غَسَّانَ ، مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ ، قَالَ أَبُو غَسَّانَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، يَوْمَ الْخَنْدَقِ، جَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ الْعَصْرَ، حَتَّى كَادَتْ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَوَاللَّهِ إِنْ صَلَّيْتُهَا، فَنَزَلْنَا إِلَى بُطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَوَضَّأْنَا، " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہوئے حدیث بیان کی کہ خندق کے روز حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں عصر کی نماز نہیں پڑھ سکا تھا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کو آ گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نے (بھی) نہیں پڑھی۔ پھر ہم (وادی) بطحان میں اترے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا اور ہم نے بھی وضو کیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورج کے غروب ہو جانے کے بعد عصر کی نماز پڑھی، پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1430]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 631 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1431]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1431 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَكِيعٌ ، عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا وَقَالَ إِسْحَاق أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْمُبَارَكِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مبارک نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کی مانند حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1431]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة