بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
جنبی نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھول کر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
Muwatta Malik (Yahya)
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طہارت کے بیان میں جنبی نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھول کر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 5
حدیث نمبر: 109 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ ، أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَبَّرَ فِي صَلَاةٍ مِنَ الصَّلَوَاتِ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَيْهِمْ بِيَدِهِ أَنِ امْكُثُوا فَذَهَبَ ثُمَّ رَجَعَ وَعَلَى جِلْدِهِ أَثَرُ الْمَاءِ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت عطاء بن یسار سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تکبیر کہی کسی نماز میں نمازوں میں سے، پھر اشارہ کیا مقتدیوں کو اپنے ہاتھ سے اس بات کا کہ اپنی جائے نماز پر جمے رہو، اور آپ گئے گھر میں، بعد اس کے لوٹ کر آئے اور آپ کے بدن پر پانی کا نشان تھا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 109]
تخریج الحدیث
«صحيح، أخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 275، 639، 640، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 605، وأبو داود فى «سننه» برقم: 233، 234، 235، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 793، 808، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1220، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7358، 7631، والطبراني فى «الصغير» برقم: 806، شركة الحروف نمبر: 100، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 79»
حدیث نمبر: 110 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، زُيَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زُيَيْدِ بْنِ الصَّلْتِ ، أَنَّهُ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَى الْجُرُفِ، فَنَظَرَ فَإِذَا هُوَ قَدِ احْتَلَمَ وَصَلَّى وَلَمْ يَغْتَسِلْ، فَقَالَ:" وَاللَّهِ مَا أَرَانِي إِلَّا احْتَلَمْتُ وَمَا شَعَرْتُ، وَصَلَّيْتُ وَمَا اغْتَسَلْتُ"، قَالَ: فَاغْتَسَلَ، وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ وَنَضَحَ مَا لَمْ يَرَ، وَأَذَّنَ أَوْ أَقَامَ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ارْتِفَاعِ الضُّحَى مُتَمَكِّنًا
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا زبید بن صلت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نکلا میں ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے جرف تک، تو دیکھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے کپڑے کو اور پایا نشان احتلام کا، اور نماز پڑھ چکے تھے بغیر غسل، تب کہا: اللہ کی قسم! میں نہیں دیکھتا ہوں اپنے کو مگر مجھے احتلام ہوا اور خبر نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی اور غسل نہیں کیا، سیدنا زبید رضی اللہ عنہ نے کہا: پس غسل کیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور دھویا جو نشان دکھائی دیا کپڑے میں، اور جو نہ دکھائی دیا اس پر پانی چھڑک دیا، اور اذان کہی یا اقامت کہی، پھر نماز پڑھی جب آفتاب بلند ہو گیا اطمینان سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 110]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 817، 818، 1932، 4142، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 932، 933، 935، 1445، 1446، 1448، 3644، 3645، 3646، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 906، 3992، 3993، 37636، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 295، 296، 2363، 2364، شركة الحروف نمبر: 101، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 80»
حدیث نمبر: 111 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا إِلَى أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا، فَقَالَ:" لَقَدْ ابْتُلِيتُ بِالْاحْتِلَامِ مُنْذُ وُلِّيتُ أَمْرَ النَّاسِ"، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ مِنَ الْاحْتِلَامِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صبح کو گئے اپنی زمیں کو جو جرف میں تھی، پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا۔ پھر کہا: میں مبتلا ہو گیا احتلام میں جب سے خلیفہ ہوا، پھر غسل کیا اور دھویا جو نشان پایا اپنے کپڑے میں احتلام کا، پھر نماز پڑھی جب آفتاب نکل آیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 111]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 817، 818، 1932، 4142، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 932، 933، 935، 1445، 1446، 1448، 3644، 3645، 3646، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 906، 3992، 3993، 37636، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 295، 296، 2363، 2364، شركة الحروف نمبر: 102، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 81»
حدیث نمبر: 112 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، صَلَّى بِالنَّاسِ الصُّبْحَ، ثُمَّ غَدَا إِلَى أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا، فَقَالَ: " إِنَّا لَمَّا أَصَبْنَا الْوَدَكَ لَانَتِ الْعُرُوقُ"، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ الْاحْتِلَامَ مِنْ ثَوْبِهِ وَعَادَ لِصَلَاتِهِ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے صبح کی نماز پڑھائی لوگوں کو، پھر گئے اپنی زمین کی طرف جو جرف میں تھی، پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا، تو کہا کہ جب سے ہم کھانے لگے چربی، نرم ہوگیئں رگیں۔ پھر غسل کیا اور دھویا احتلام کے نشان کو اپنے کپڑے سے، اور لوٹایا نماز کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 112]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 817، 818، 1932، 4142، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 932، 933، 935، 1445، 1446، 1447، 1448، 3644، 3645، 3646، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 906، 3992، 3993، 37636، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 295، 296، 2363، 2364، شركة الحروف نمبر: 103، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 82»
حدیث نمبر: 113 موطا امام مالک (روایۃ یحیی)
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، أَنَّهُ اعْتَمَرَ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، وَأَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَرَّسَ بِبَعْضِ الطَّرِيقِ قَرِيبًا مِنْ بَعْضِ الْمِيَاهِ، فَاحْتَلَمَ عُمَرُ وَقَدْ كَادَ أَنْ يُصْبِحَ، فَلَمْ يَجِدْ مَعَ الرَّكْبِ مَاءً، فَرَكِبَ حَتَّى جَاءَ الْمَاءَ، فَجَعَلَ يَغْسِلُ مَا رَأَى مِنْ ذَلِكَ الْاحْتِلَامِ حَتَّى أَسْفَرَ، فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: أَصْبَحْتَ وَمَعَنَا ثِيَابٌ فَدَعْ ثَوْبَكَ يُغْسَلُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" وَاعَجَبًا لَكَ يَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ لَئِنْ كُنْتَ تَجِدُ ثِيَابًا أَفَكُلُّ النَّاسِ يَجِدُ ثِيَابًا، وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُهَا لَكَانَتْ سُنَّةً، بَلْ أَغْسِلُ مَا رَأَيْتُ وَأَنْضِحُ مَا لَمْ أَرَ" .
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کیا ساتھ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے کئی شتر سواروں میں، ان میں سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے، اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ رات کو اترے قریب پانی کے، تو احتلام ہوا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اور صبح قریب تھی، اور قافلہ میں پانی نہ تھا، تو سوار ہوئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یہاں تک کہ آئے پانی کے پاس اور دھونے لگے کپڑے اپنے، یہاں تک کہ روشنی ہوگئی، اور سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے: صبح ہوگئی، ہمارے پاس کپڑے ہیں، آپ اپنا کپڑا چھوڑ دیجیے دھو ڈالا جائے گا، اور ہمارے کپڑوں میں سے ایک کپڑا پہن لیجیے۔ تو کہا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے: تعجب ہے اے عمرو بن عاص! کیا تمہارے پاس کپڑے ہیں تو تم سمجھتے ہو کہ سب آدمیوں کے پاس کپڑے ہوں گے، قسم اللہ کی! اگر میں ایسا کروں تو یہ امر سنت ہو جائے، بلکہ دھو ڈالتا ہوں میں جہاں نجاست معلوم ہوتی ہے، اور پانی چھڑک دیتا ہوں جہاں نہیں معلوم ہوتی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 113]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 817، 818، 1932، 4142، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 932، 933، 935، 1445 وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 906، 3992، 3993، 37636، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 295، 296، 2363، 2364، شركة الحروف نمبر: 104، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 83»