بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 111 — جنبی نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھول کر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طہارت کے بیان میں جنبی نماز کو لوٹا دے غسل کر کے جب اس نے نماز پڑھ لی ہو بھول کر بغیر غسل کے اور اپنے کپڑے دھوئے اگر اس میں نجاست لگی ہو حدیث 111
إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ غَدَا إِلَى أَرْضِهِ بِالْجُرُفِ فَوَجَدَ فِي ثَوْبِهِ احْتِلَامًا، فَقَالَ:" لَقَدْ ابْتُلِيتُ بِالْاحْتِلَامِ مُنْذُ وُلِّيتُ أَمْرَ النَّاسِ"، فَاغْتَسَلَ وَغَسَلَ مَا رَأَى فِي ثَوْبِهِ مِنَ الْاحْتِلَامِ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ صبح کو گئے اپنی زمیں کو جو جرف میں تھی، پس دیکھا اپنے کپڑے میں نشان احتلام کا۔ پھر کہا: میں مبتلا ہو گیا احتلام میں جب سے خلیفہ ہوا، پھر غسل کیا اور دھویا جو نشان پایا اپنے کپڑے میں احتلام کا، پھر نماز پڑھی جب آفتاب نکل آیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 111]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 817، 818، 1932، 4142، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 932، 933، 935، 1445، 1446، 1448، 3644، 3645، 3646، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 906، 3992، 3993، 37636، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 295، 296، 2363، 2364، شركة الحروف نمبر: 102، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 81»
← پچھلی حدیث (110) باب پر واپس اگلی حدیث (112) →