بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 92 — شرمگاہ کو چھونے سے وضو لازم ہونے کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طہارت کے بیان میں شرمگاہ کو چھونے سے وضو لازم ہونے کا بیان حدیث 92
ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: رَأَيْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَغْتَسِلُ ثُمَّ يَتَوَضَّأُ، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَتِ، أَمَا يَجْزِيكَ الْغُسْلُ مِنَ الْوُضُوءِ، قَالَ: " بَلَى، وَلَكِنِّي أَحْيَانًا أَمَسُّ ذَكَرِي فَأَتَوَضَّأُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں نے دیکھا اپنے باپ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو، غسل کر کے پھر وضو کرتے۔ تو پوچھا میں نے اے باپ میرے! کیا غسل کافی نہیں ہے وضو سے؟ کہا: ہاں کافی ہے، لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بعد غسل کے چھو لیتا ہوں ذَکر اپنا تو وضو کرتا ہوں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 92]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 550، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 639، 860، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 419، 1038، 1039، 1040، 1041، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 748، 750، والطبراني فى "الكبير"، 13377، شركة الحروف نمبر: 85، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 62» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔
← پچھلی حدیث (91) باب پر واپس اگلی حدیث (93) →