بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 93 — شرمگاہ کو چھونے سے وضو لازم ہونے کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طہارت کے بیان میں شرمگاہ کو چھونے سے وضو لازم ہونے کا بیان حدیث 93
نَافِعٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَيْتُهُ بَعْدَ أَنْ طَلَعَتِ الشَّمْسُ تَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ هَذِهِ لَصَلَاةٌ مَا كُنْتَ تُصَلِّيهَا، قَالَ: " إِنِّي بَعْدَ أَنْ تَوَضَّأْتُ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ مَسِسْتُ فَرْجِي، ثُمَّ نَسِيتُ أَنْ أَتَوَضَّأَ فَتَوَضَّأْتُ وَعُدْتُ لِصَلَاتِي"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ میں سفر میں ساتھ تھا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے تو دیکھا میں نے آج آفتاب نکلا، تو وضو کیا انہوں نے اور نماز پڑھی، میں نے کہا کہ آج آپ نے ایسی نماز پڑھی جس کو آپ نہ پڑھتے تھے۔ کہا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ آج میں نے وضو کر کے اپنے ذَکر کو چھو لیا تھا، پھر وضو کرنا میں بھول گیا اور نماز صبح کی میں نے پڑھ لی، اس لیے میں نے اب وضو کیا اور نماز کو دوبارہ پڑھ لیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 93]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 638، 640، 642، والدارقطني فى «سننه» برقم: 531، 1374، والبزار فى «مسنده» برقم: 5962، 6024، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 417، 418، 421، 422، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1738، 1743، 1744، 1747، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 445، 446، 464، والطبراني فى "الكبير"، 13118، شركة الحروف نمبر: 86، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 63» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔
← پچھلی حدیث (92) باب پر واپس اگلی حدیث (94) →