بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 81 — جس شخص کا خون زخم یا نکسیر پھوٹنے سے برابر بہتا رہے، اس کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طہارت کے بیان میں جس شخص کا خون زخم یا نکسیر پھوٹنے سے برابر بہتا رہے، اس کا بیان حدیث 81
هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، عُمَرُ
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مِنَ اللَّيْلَةِ الَّتِي طُعِنَ فِيهَا فَأَيْقَظَ عُمَرَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ عُمَرُ : " نَعَمْ، وَلَا حَظَّ فِي الْإِسْلَامِ لِمَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ" فَصَلَّى عُمَرُ وَجُرْحُهُ يَثْعَبُ دَمًا
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس اس رات کو جس میں وہ زخمی ہوئے تھے، تو جگائے گئے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نمازِ صبح کے واسطے، پس فرمایا کہ ہاں، اور اچھا نہیں حصہ اس شخص کا اسلام میں جو ترک کرے نماز کو، تو نماز پڑھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور زخم سے ان کے خون بہتا تھا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 81]
تخریج الحدیث
«موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1703، والدارقطني فى «سننه» برقم: 870، 871، 1511، 1750، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 579، 580، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 8474، 30998، 38222، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 8181، شركة الحروف نمبر: 74، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 51» شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ اس کی سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے، علامہ البانی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔
← پچھلی حدیث (80) باب پر واپس اگلی حدیث (82) →