بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

موطا امام مالک (روایۃ یحیی)

حدیث نمبر: 41 — وضوء کے پانی کا بیان
کتب موطا امام مالک (روایۃ یحیی) کتاب: طہارت کے بیان میں وضوء کے پانی کا بیان حدیث 41
إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، حُمَيْدَةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ عُبَيْدِ بْنِ فَرْوَةَ ، كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبَا قَتَادَةَ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ حُمَيْدَةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدَةَ عُبَيْدِ بْنِ فَرْوَةَ ، عَنْ خَالَتِهَا كَبْشَةَ بِنْتِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَكَانَتْ تَحْتَ ابْنِ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهَا، أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ دَخَلَ عَلَيْهَا فَسَكَبَتْ لَهُ وَضُوءًا، فَجَاءَتْ هِرَّةٌ لِتَشْرَبَ مِنْهُ، فَأَصْغَى لَهَا الْإِنَاءَ حَتَّى شَرِبَتْ، قَالَتْ كَبْشَةُ: فَرَآنِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: أَتَعْجَبِينَ يَا ابْنَةَ أَخِي؟ قَالَتْ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّهَا لَيْسَتْ بِنَجَسٍ، إِنَّمَا هِيَ مِنَ الطَّوَّافِينَ عَلَيْكُمْ أَوِ الطَّوَّافَاتِ" .
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: لَا بَأْسَ بِهِ إِلَّا أَنْ يُرَى عَلَى فَمِهَا نَجَاسَةٌ
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت کبشہ بنت کعب سے روایت ہے کہ سیّدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ گئے ان کے پاس تو رکھا کبشہ نے ایک برتن میں پانی ان کے وضو کے لیے، پس آئی بلی اس میں سے پینے کو تو جھکا دیا برتن کو سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے یہاں تک کہ پی لیا بلی نے پانی۔ کہا کبشہ نے: دیکھ لیا سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہ میں ان کی طرف تعجب سے دیکھتی ہوں، تو پوچھا سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے: کیا تعجب کرتی ہو اے بھتیجی میری! میں نے کہا: ہاں۔ تو کہا سیّدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے: فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے: بلی ناپاک نہیں ہے، وہ رات دن پھرنے والوں میں سے ہے تم پر۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: کچھ حرج نہیں بلی کے جھوٹے میں مگر جب اس کے منہ پر پلیدی معلوم ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 41]
تخریج الحدیث
«صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 103، 104، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1299، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 571، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 68، 339، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 63، وأبو داود فى «سننه» برقم: 75، والترمذي فى «جامعه» برقم: 92، والدارمي فى «مسنده» برقم: 763، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 367، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1179، 1180، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22964، 23019، 23077، 23078، والحميدي فى «مسنده» برقم: 434، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 346، 348، وابن الجارود فى «المنتقى» برقم: 67، شركة الحروف نمبر: 38، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 13» سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن حدیث قرار دیا ہے، امام عقیلی رحمہ اللہ نے کہا کہ اس کی سند صحیح ثابت ہے، امام ابن ملقن رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ حدیث صحیح مشہور ہے، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ امام بخاری رحمہ اللہ، امام ترمذی رحمہ اللہ، امام عقیلی رحمہ اللہ اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور امام نووی رحمہ اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے۔
← پچھلی حدیث (40) باب پر واپس اگلی حدیث (42) →