يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَرَجَ فِي رَكْبٍ فِيهِمْ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حَتَّى وَرَدُوا حَوْضًا، فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ لِصَاحِبِ الْحَوْضِ: يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ، هَلْ تَرِدُ حَوْضَكَ السِّبَاعُ؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " يَا صَاحِبَ الْحَوْضِ، لَا تُخْبِرْنَا، فَإِنَّا نَرِدُ عَلَى السِّبَاعِ، وَتَرِدُ عَلَيْنَا"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
حضرت یحییٰ بن عبدالرحمٰن سے روایت ہے کہ سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نکلے چند سواروں میں، ان میں سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ راہ میں ایک حوض ملا تو سیّدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے حوض والے سے پوچھا کہ تیرے حوض پر درندے جانور پانی پینے کو آتے ہیں؟ تو کہا سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے: اے حوض والے! مت بتا ہم کو اس لیے کہ درندے کبھی ہم سے آگے آتے ہیں اور کبھی ہم درندوں سے آگے آتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 42]
تخریج الحدیث
«موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1201، 1242، والدارقطني فى «سننه» برقم: 62، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 247، 249، 250، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 1516، 1517، شركة الحروف نمبر: 39، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 14» شیخ سلیم ہلالی نے اس روایت کو موقوف ضعیف کہا ہے، ابن عبد الہادی نے اس کی سند منقطع قرار دی ہے اور علامہ البانی نے کہا کہ یہ اثر ضعیف ہے۔ [تمام المسته: ص 48]