صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَيْمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سَلَمَةَ مِنْ آلِ بَنِي الْأَزْرَقِ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ وَهُوَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَرْكَبُ الْبَحْرَ وَنَحْمِلُ مَعَنَا الْقَلِيلَ مِنَ الْمَاءِ، فَإِنْ تَوَضَّأْنَا بِهِ عَطِشْنَا أَفَنَتَوَضَّأُ بِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ"
ترجمہ: علامہ وحید الزماں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص آیا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تو کہا اس نے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم سوار ہوتے ہیں سمندر میں اور اپنے ساتھ پانی تھوڑا رکھتے ہیں، اگر اسی سے وضو کریں تو پیاسے رہیں، کیا سمندر کے پانی سے ہم وضو کریں؟ فرمایا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے: ”پاک ہے پانی اس کا، حلال ہے مردہ اس کا۔“ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 40]
تخریج الحدیث
«صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 111، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1243، 5258، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 492، 493، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 59، 331، 333، 4361، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 58، 4843، وأبو داود فى «سننه» برقم: 83، والترمذي فى «جامعه» برقم: 69، والدارمي فى «مسنده» برقم: 755، 756، 2054، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 386، 3246، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1، 2، 5، 19033، والدارقطني فى «سننه» برقم: 80، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7353، 8856، شركة الحروف نمبر: 37، فواد عبدالباقي نمبر: 2 - كِتَابُ الطَّهَارَةِ-ح: 12» شیخ سلیم ہلالی نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے، امام ترمذی رحمہ اللہ اور امام بغوی رحمہ اللہ نے اسے حسن صحیح قرار دیا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ [العلل الكبير: 136/1] امام بیہقی رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے اور اس کی صحت پر سب کا اتفاق ہے اور امام ابن منذر رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ یہ روایت ثابت ہے۔